تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 351 of 769

تریاق القلوب — Page 351

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۶۳ ۳۵۱ تریاق القلوب کہ یہ تہمت جھوٹ ہے۔ پس یہ کس قدر عظیم الشان نشان ہے اور کس قدر عجائب تصرفات الہی اس میں جمع ہیں۔ فالحمد للہ علی ذالک۔ منجملہ نشانات کے ایک نشان یہ ہے کہ تخمیناً پچیس برس کے قریب عرصہ گذر گیا ہے کہ میں گورداسپورہ میں تھا کہ مجھے یہ خواب آئی کہ میں ایک جگہ چار پائی پر بیٹھا ہوں اور اُسی چارپائی پر بائیں طرف میرے مولوی عبداللہ صاحب مرحوم غزنوی بیٹھے ہیں جن کی اولاداب امرتسر میں رہتی ہے۔ اتنے میں میرے دل میں محض خدا تعالی کی طرف سے ایک تحریک پیدا ہوئی کہ مولوی صاحب موصوف کو چار پائی سے نیچے اتار دوں ۔ چنانچہ میں نے اپنی جگہ کو چھوڑ کر مولوی صاحب کی جگہ کی طرف رجوع کیا یعنی جس حصہ چار پائی پر وہ بائیں طرف بیٹھے ہوئے تھے اُس حصے میں میں نے بیٹھنا چاہا تب اُنہوں نے وہ جگہ چھوڑ دی اور وہاں سے کھسک کر پائینتی کی طرف چند انگلی کے فاصلے پر ہو بیٹھے ۔ تب پھر میرے دل میں ڈالا گیا کہ اس جگہ سے بھی میں اُن کو اٹھا دوں پھر میں اُن کی طرف جھکا تو وہ اس جگہ کو بھی چھوڑ کر پھر چند انگلی کی مقدار پر پیچھے ہٹ گئے ۔ پھر میرے دل میں ڈالا گیا کہ اس جگہ سے بھی اُن کو اور زیادہ پائینتی کی طرف کیا جائے ۔ تب پھر وہ چند انگلی پائینتی کی طرف کھسک کر ہو بیٹھے ۔ القصہ میں ایسا ہی اُن کی طرف کھسکتا گیا اور وہ پائینتی کی طرف کھسکتے گئے یہاں تک کہ اُن کو آخر کار چار پائی سے اُترنا پڑا اور وہ زمین پر جو محض خاک تھی اور اس پر چٹائی وغیرہ کچھ بھی نہ تھی اُتر کر بیٹھ گئے ۔ اتنے میں تین فرشتے آسمان سے آئے ۔ ایک کا نام ان میں سے خیراتی تھا وہ بھی اُن کے ساتھ زمین پر بیٹھ گئے اور میں چار پائی پر بیٹھا رہا۔ تب میں نے اُن فرشتوں اور مولوی عبد اللہ صاحب کو کہا کہ آؤ میں ایک دعا (92)