تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 350 of 769

تریاق القلوب — Page 350

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۳۵۰ پڑھ کر سنایا گیا۔ اُس نے درست تسلیم کیا ۔“ اب دیکھو کہ اس بندہ درگاہ کی کیسی صفائی سے بریت ثابت ہوئی ۔ ظاہر ہے کہ اس مقدمہ میں عبد الحمید کے لئے سخت مضر تھا کہ اپنے پہلے بیان کو جھوٹا قرار دیتا کیونکہ اس سے یہ جرم عظیم ثابت ہوتا ہے کہ اُس نے دوسرے پر ناحق ترغیب قتل کا الزام لگایا۔ اور ایسا جھوٹ اس سزا کو چاہتا ہے جو مرتکب اقدام قتل کی سزا ہوتی ہے۔ اگر وہ اپنے دوسرے بیان کو جھوٹا قرار دیتا جس میں میری بریت ظاہر کی تھی تو اس میں قانو ناسزا کم تھی۔ لہذا اس کے لئے مفید راہ یہی تھی کہ وہ دوسرے بیان کو جھوٹا کہتا مگر خدا نے اُس کے منہ سے سچ نکلوا دیا جس طرح زلیخا کے منہ سے حضرت یوسف کے مقابل پر اور ایک مفتری عورت کے منہ سے حضرت موسیٰ کے مقابل پر بیچ نکل گیا تھا کہ سو یہی اعلیٰ درجہ کی بریت ہے جس کو یوسف اور موسیٰ کے قصے سے مماثلت ہے اور اسی کی طرف اس الہامی پیشگوئی کا اشارہ تھا کہ برأه الله مما قالوا۔ کیونکہ یہ قرآن شریف کی وہ آیت ہے جس میں حضرت موسیٰ کی بریت کا حال جتلا نا منظور ہے۔ غرض میرے قصے کو خدا تعالیٰ نے حضرت یوسف اور حضرت موسیٰ کے قصے سے مشابہت دی اور خود تہمت لگانے والے کے منہ سے نکلوا دیا یادر ہے کہ زلیخا اور وہ عورت جو حضرت موسیٰ پر زنا کی تہمت لگانے والی تھی ان دونوں عورتوں کے دو متناقض بیان تھے مثلاً زلیخا کا پہلا بیان یہ تھا کہ یوسف نے اُس پر مجرمانہ حملہ کیا جو زنا کے ارادہ سے تھا۔ اور دوسرا بیان بالکل عبد الحمید کی طرح اُس نے بادشاہ کے روبرو یہ دیا کہ پہلا بیان میرا جھوٹا ہے اور دراصل یوسف اس تہمت سے پاک ہے اور نا جائز حملہ میری طرف سے تھا۔ سوخدا نے دوسرے بیان پر میری طرح یوسف کی بریت ظاہر کی۔ منہ