تریاق القلوب — Page 346
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۳۴۶ تریاق القلوب ہے اور دوسری طرف اس بات کو سوچے کہ کیونکر عدالت امرتسر کا پہلا وار ہی خالی گیا تو بے شک اُس کو اس بات پر یقین آجائے گا کہ یہ خدا تعالیٰ کا تصرف تھا تا وہ اپنے الہامی وعدہ کے موافق اپنے بندہ کو ہر ایک ذلت سے محفوظ رکھے کیونکہ گرفتار ہو کر عدالت میں پیش کئے جانا اور ہتھکڑی کے ساتھ حکام کے سامنے حاضر ہونا یہ بھی ایک ذلت ہے جس سے دشمنوں کو خوشی پہنچتی ہے۔ پھر اس کے بعد ایسا ہوا کہ جیسا کہ ابھی ہم ذکر کر آئے ہیں اس مقدمہ کے تمام کاغذات صاحب ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپور کے پاس بھیجے گئے اور جب یہ کا غذات صاحب ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپورہ کے پاس پہنچ گئے تو دوسرا نشان خدا تعالی کی طرف سے یہ ظہور میں آیا کہ صاحب ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپورہ یعنی کپتان ایم ڈبلیوڈ گلس صاحب کے دل میں خدا تعالیٰ نے یہ ڈال دیا کہ اس مقدمہ میں وارنٹ جاری کرنا مناسب نہیں بلکہ سمن کافی ہوگا۔ لہذا انہوں نے ۱۹ اگست ۱۸۹۷ء کو میرے نام ایک سمن جاری کیا جس کی نقل ذیل میں لکھتا ہوں اور وہ یہ ہے۔ نمبر ۴ سمن بنام مستغاث علیہ حسب دفعه ۱۵۲ مجموعه ضابطہ فوجداری بعدالت کپتان ڈگلس صاحب مجسٹریٹ ضلع۔ بنام مرزا غلام احمد ولد مرزاغلام مرتضی ذات مغل ساکن قادیان مغلاں پرگنه بٹالہ ضلع گورداسپورو۔ جو کہ حاضر ہونا تمہارا بغرض جواب دہی الزام دفعه ۱۰۷ ضابطہ فوجداری ضرور ہے لہذا تم کو اس تحریر کے ذریعہ سے حکم ہوتا ہے کہ بتاریخ ۱۰ / ماہ اگست ۱۸۹۷ء اصالتا یا بذریعہ مختار ذی اختیار یا جیسا ہو موقع پر بمقام بٹالہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے پاس حاضر ہو اور اس باب میں تاکید جانو ۔ دستخط مجسٹریٹ ضلع گورداسپورہ ۹ را گست ۱۸۹۷ء