تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 333 of 769

تریاق القلوب — Page 333

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۳۳۳ تریاق القلوب پس جبکہ تم اپنے نفسوں کو ایسا نہیں پاتے تو پھر کیوں دوسروں پر اس قدر بدگمانیاں کرتے ہو کہ وہ ایسے احمق اور دیوانے ہو گئے ہیں کہ وہ میرے لئے قرآن شریف اُٹھا کر اور بصورت کذب اپنے فرزندوں کی ہلاکت کی دعا کر کے میرے لئے گواہی دیں۔ اور ایسے آدمی نہ ایک نہ دو بلکہ کئی ہزار ہوں کبھی دنیا میں ہوا یا ہو سکتا ہے کہ صدیا معززین نے جو اہل علم اور اہل عقل اور اہلِ مرتبہ ہوں اپنے کسی ایسے گرو یا پیر کے لئے جو بات بات میں دروغ گو اور مفتری اور کذاب ہو اس طرح پر اپنے ایمان کو برباد کیا ہو ۔ سو بھائیو کچھ تو سوچو کچھ تو خدا تعالیٰ کے لئے خوف کرو خدا کی رحمت سے کیوں نا اُمید ہوتے ہو۔ یقیناً سمجھو کہ اگر یہ انسان کا کاروبار ہوتا تو ایسے مفتری انسان کو ہر ایک پہلو سے کبھی مدد نہ پہنچ سکتی ۔ کیا تمہیں طاقت ہے کہ جن ثبوتوں اور شائع شدہ تحریروں اور حلفی شہادتوں کے ساتھ یہ نشان ثابت ہو گئے ہیں اس کی نظیر اسی تعداد اور کیفیت کے ساتھ پیش کر سکو۔ دیکھو میں تمہیں پہلے سے کہتا ہوں کہ تم ہرگز نہیں پیش کر سکو گے اگر چہ تم تدبیریں کرتے کرتے مر بھی جاؤ کیونکہ تمہارے ساتھ خدا نہیں ہے اور تمہاری دعا ئیں آسمان پر نہیں جاتیں ۔ پس سوچو کہ اعجاز اور کیا ہوتا ہے یہی تو ہے کہ تم کروڑوں ہو کر ایک شخص کے مقابل پر عاجز ہو ۔ قرآن کو کھول کر دیکھو کہ وہ جو سچا اور قادر خدا ہے وہ مومنوں کو وعدہ دیتا ہے کہ ہمیشہ اُن کا غلبہ ہو گا مگر تمہارا فرضی خدا کیسا خدا ہے کہ ہر ایک میدان میں تمہیں شرمندہ کرتا ہے۔ اُس نے تمہیں خاک میں ملا دیا اور تمہاری کچھ بھی مدد نہ کی ۔ دیکھو تم اس بات کو کب چاہتے تھے کہ زمین پر ایسے بڑے نشان میرے ہاتھ سے ظاہر ہوں جن کا تم مقابلہ نہ کر سکو۔ اور تم اس بات کو کب چاہتے تھے کہ آسمان پر میری تصدیق کے لئے رمضان میں خسوف کسوف ہو