تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 322 of 769

تریاق القلوب — Page 322

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۳۲۲ تریاق القلوب ہر ایک جگہ مطلق رہا شدہ مراد لیا جائے بلکہ ٹھیک ٹھیک قانون کا منشا یہ ہے کہ تمام ایسے مقدموں میں جہاں ملزم عدم ثبوت میں چھوڑے جاتے ہیں ۔ ڈسچارج کے لفظ سے ایسا رہا شدہ مراد ہوتا ہے جس پر جرم ثابت نہیں ہو سکا اور وہی ہے جس کو عربی میں بری کہتے ہیں جیسا کہ قرآن شریف کی گواہی سے معلوم ہو چکا ہے ہاں چونکہ ڈسچارج کے لفظ کے ترجمہ کرنے والے اس بار یک بحث کو اچھی طرح ادا نہیں کر سکے اس لئے اُنہوں نے یہ غلطی کھائی ہے کہ ڈسچارج کا ترجمہ بیان کرنے میں ایک ایسے لفظ کو پیش کیا ہے یعنی رہائی کو جو ڈسچارج کے پورے مفہوم کا متحمل نہیں ہوسکتا چونکہ انگریزی ہو یا فارسی یہ ایک ایسی لچر اور نامکمل زبانیں ہیں جو پورے مفہوم کو ادا نہیں کرسکیں اس لئے ترجمہ کرنے والوں کو یہ ٹھو کر پیش آئی اور ان کی ٹھو کر اور بہت سے سادہ لوحوں کی ٹھوکر کا موجب ہوئی ۔ اگر وہ عربی میں جو ایک بھاری علمی ذخیرہ اپنے اندر رکھتی ہے اس لفظ کا ترجمہ کرتے اور ڈسچارج کا نام بری رکھتے اور ایکنٹ کا نام مبرء رکھتے تو اِس دھوکہ دینے والی لغزش سے محفوظ رہتے اور ہم اب بھی واضعانِ قانون کو یاد دلاتے ہیں کہ یہ تقسیم سخت قابل اعتراض ہے۔ اگر چہ ہر ایک شخص کا اختیار ہے کہ جو اصطلاح چاہے قائم کرے لیکن جبکہ عربی میں دو لفظ بری اور مبرء صاف موجود ہیں جو بمقابل ڈسچارج اور ایکنیٹ نہایت زبان عرب اور قرآن شریف کے نصوص صریحہ کے رو سے تمام انسان جو دنیا میں ہیں کیا مرد اور کیا عورت بری کہلانے کے مستحق ہیں جب تک کہ ان پر کوئی جرم ثابت نہ ہو۔ پس قرآن کے رُو سے بری کے معنے ایسے وسیع ہیں کہ جب تک کسی پر کسی جرم کا ثبوت نہ ہو وہ بری کہلائے گا کیونکہ انسان کے لئے بری ہونا طبیعی حالت ہے اور گناہ ایک عارضہ ہے جو پیچھے سے لاحق ہوتا ہے لہذا اس کے لئے ثبوت درکار ہے ۔ منہ