تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 321 of 769

تریاق القلوب — Page 321

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۳۲۱ تریاق القلوب لگاتے اور آئندہ ژاثر خائی اور بیہودہ گوئی سے مجتنب رہتے تو اس میں آپ کی بڑی عزت تھی مگر آپ نے خواہ نخواہ میری نسبت اخبارات میں چھپوا دیا کہ یہ شخص بری نہیں ہوا حالانکہ اس سے پہلے کپتان ڈگلس صاحب نے ڈاکٹر کلارک کے مقدمہ میں ڈسچارج کے معنی بری لکھوائے تھے ۔ چونکہ مسٹر ڈوئی صاحب نے ڈسچارج کے اُردو میں معنے نہیں لکھوائے تھے تو آپ نے نیش زنی کے لئے اسی کو غنیمت سمجھا اور اخباروں میں ایک شور مچا دیا۔ اب اس تحریر کے شائع ہونے کے بعد جس قدر آپ شرمندہ ہوں گے اس کا کون اندازہ کر سکتا ہے شاید کسی وکیل نے ہنسی سے آپ کو کہہ دیا ہوگا کہ ڈسچارج کے معنے رہائی ہے بریت نہیں ہے۔ لیکن اب آپ بچوں کی طرح اس سبق کو یاد رکھیں کہ واضعانِ قانون کا ہرگز یہ منشاء نہیں ہے کہ ہر ایک جگہ ڈسچارج کے معنے مطلق رہائی ہے بلکہ جب عدم ثبوت کے محل میں کسی ملزم کو ڈسچارج کرتے ہیں تو ایسے فیصلے میں ڈسچارج کے لفظ سے اس قسم کی رہائی مراد ہوتی ہے جو بوجہ نہ پانے کسی ثبوت جرم کے ملزم کو ملتی ہے ۔ آپ اس قدر تو ہوش حواس رکھتے ہوں گے کہ اس بات کو سمجھ سکیں (۸۴ کہ کسی مجسٹریٹ کو اختیار نہیں ہے کہ بغیر کسی وجہ رہائی کے مجرم کو یونہی چھوڑ دے۔ سو آپ کو یا در ہے کہ واضعان قانون نے ایک تقسیم دکھلانے کے لئے بریت کے دو مفہوم کے جدا جدا نام بیان کر دیئے ہیں یعنی ایک ڈسچارج جس سے ایسے فیصلوں میں وہ قابل رہائی ملزم مراد ہے جو بوجہ عدم ثبوت جرم رہا کیا جاتا ہے جس کو عربی میں بری کہتے ہیں ۔ دوسرے ایکئٹ جو صفائی ثابت ہونے کے بعد چھوڑا جاتا ہے جس کو عربی میں مبرء بولتے ہیں۔ اور یہ قانون کی غلط فہمی ہے کہ ڈسچارج سے افسوس اس مولوی پر جس سے ایک انگریز عربی کے محاورہ کا زیادہ واقف ثابت ہو ۔منہ