تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 309 of 769

تریاق القلوب — Page 309

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۹ ٣٠٩ تریاق القلوب منجملہ خدا تعالیٰ کے نشانوں کے ایک یہ نشان ہے کہ وہ مقدمہ جو نشی محمد بخش ڈپٹی انسپکٹر بٹالہ کی رپورٹ کی بنا پر دائر ہو کر عدالت مسٹر ڈوئی صاحب مجسٹریٹ ضلع گورداسپورہ میں میرے پر چلایا گیا تھا جو فروری ۱۸۹۹ء کو اس طرح پر فیصلہ ہوا کہ اُس الزام سے مجھے بری کر دیا گیا ۔ اس مقدمہ کے انجام سے خدا تعالیٰ نے پیش از وقت مجھے بذریعہ الہام خبر دے دی کہ وہ مجھے آخر کار دشمنوں کے بد ارادے سے سلامت اور محفوظ رکھے گا اور مخالفوں کی کوششیں ضائع جائیں گی سو ایسا ہی وقوع میں آیا۔ جن لوگوں کو اس مقدمہ کی خبر تھی اُن پر پوشیدہ نہیں کہ مخالفوں نے میرے پر الزام قائم کرنے کے لئے کچھ کم کوشش نہیں کی تھی بلکہ مخالف گروہ نے ناخنوں تک زور لگایا تھا اور افسر مذکور نے میرے مخالف عدالت میں بڑے زور سے شہادت دی تھی لیکن جیسا کہ ابھی میں نے بیان کیا ہے قبل اس کے جو یہ مقدمہ دائر ہو مجھے خدا تعالیٰ نے اپنے الہام کے ذریعہ سے اطلاع دی تھی کہ تم پر ایسا مقدمہ عنقریب ہونے والا ہے۔ اور اس اطلاع پانے کے بعد میں نے دعا کی اور وہ دعا منظور ہو کر آخر میری بر بیت ہوئی۔ اور قبل انفصال مقدمہ کے یہ الہام بھی ہوا کہ تیری عزت اور جان سلامت رہے گی اور دشمنوں کے حملے جو اسی بد غرض کے لئے ہیں اُن سے تجھے بچایا جائے گا اس الہام سے اور ان سب خبروں سے جو پیش از وقت معلوم ہوئیں میں نے ایک جماعت کثیر کو اپنے دوستوں میں سے خبر کر دی تھی۔ چنانچہ ان میں سے اخویم مولوی حکیم نور دین صاحب جملہ اس الہام سے میں نے اس جگہ کے سرگرم اور متعصب آریہ لالہ شرمیت اور لالہ ملاوامل کو بھی قبل از وقت خبر کر دی تھی یعنی جب میں نے ایک بچی گواہی کے لئے ان کو کہا اور ان کی طرف سے انکار کی علامتیں دیکھیں تو تب میں نے کہا کہ تمہاری کچھ بھی پروا نہیں مجھے خدا نے بشارت دے دی ہے کہ اس مقدمہ سے میں تمہیں بچالوں گا ۔ منہ