تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 292 of 769

تریاق القلوب — Page 292

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۲۹۲ تریاق القلوب پٹیالہ کے ایک خدمتگار کے حوالہ کیا کیونکہ وزیر صاحب مع اپنے بعض نوکروں کے میرے چھوڑنے کے لئے ریل پر آئے تھے اور ان کے خدمت گار نے میرا چوغہ اپنے پاس رکھا اور مجھے وضو کرایا۔ جب ٹکٹ لینے کا وقت ہوا تو میں نے اپنے چونہ کی جیب میں ہاتھ ڈالا تا ٹکٹ کے لئے روپیہ ڈوں کیونکہ میں نے تمہیں روپیہ کے قریب رو مال میں باندھ کر جیب میں رکھے ہوئے تھے۔ تب جیب میں ہاتھ ڈالنے کے وقت معلوم ہوا کہ وہ رومال مع روپیہ کے کہیں گر گیا۔ غالباً اُسی وقت گرا جبکہ چوغہ اُتارا تھا۔ اس وقت مجھے وہ الہام الہی یاد آیا کہ اس سفر میں کچھ نقصان ہوگا۔ مگر یہ دوسرا فقرہ الہام کا کہ کچھ غم اور ہم پہنچے گا۔ اس کی نسبت اس وقت مجھے دو خیال آئے ۔ ایک یہ کہ اس قدر روپیہ ضائع ہونے سے بلا شبہ بمقتضائے بشریت غم ہوا۔ اور دوسرے مجھے یہ خیال بھی دل میں گذرا کہ جب وزیر صاحب موصوف ریل پر مجھے لینے کے لئے آئے اور اُنہوں نے اپنی گاڑی میں مجھے بٹھایا تو کئی ہزار آدمی میرے دیکھنے کے لئے اسٹیشن پر موجود تھا۔ جو قریب ہو ہو کر مصافحہ کرتے اور بعض ہاتھ چومتے تھے ۔ تب وزیر صاحب نے جو شیعہ مذہب تھے رنج وہ الفاظ میں بیان کیا کہ یہ لوگ وحشی احمق کیا کرتے ہیں گویا ان کی نظر میں ان لوگوں کا انکسار سے ملنا اور اس کثرت سے استقبال کے لئے آنا ایک بیہودہ امر تھا۔ تب مجھے یہ بات تمہارے نزدیک تحقیر اور تکذیب اور مضحکہ کی جگہ ہے تو اپنے علماء سے ہی پوچھ لو کہ تم پر کیا فتوی ہوسکتا ہے۔ میں آپ لوگوں کی ان بیہودہ نکتہ چینیوں سے ناراض نہیں ہوں کیونکہ آپ اس ژاژخائی سے خدا تعالی کی ایک پیشگوئی کو پورا کرتے ہیں اور وہ یہ ہے:۔ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا ۔ منہ ۷۳