تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 291 of 769

تریاق القلوب — Page 291

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۲ ۲۹۱ تریاق القلوب جس زمانہ میں سید محمد حسن خان صاحب وزیر اعظم ریاست پٹیالہ تھے ان کی وفات سے چند سال پہلے مجھے لدھیانہ سے پٹیالہ جانے کا اتفاق ہوا اور اس وقت میرے ساتھ شیخ حامد علی اور شیخ عبدالرحیم ساکن انبالہ چھاؤنی اور فتح خاں نام ایک پٹھان تھا جو ضلع ہوشیار پور کا باشندہ تھا۔ یہ دونوں شخص مؤخر الذکر مولویوں کے فتوی تکفیر کے زمانہ میں کثرت مخالفین کو دیکھ کر مخالف ہو گئے اور اب تک مخالف ہیں ۔ اور ایسا اتفاق ہوا کہ جب میں نے پٹیالہ کی طرف جانے کا قصد کیا تو خدا تعالیٰ نے رات کو میرے پر یہ ظاہر کیا کہ اس سفر میں کچھ نقصان ہوگا اور کچھ ہم و غم پیش آئے گا۔ اور میں نے اس پیشگوئی سے جو خدا تعالیٰ سے مجھے کو ملی مذکورہ بالا ہمراہیوں کو اطلاع دے دی اور ہم روانہ ہوئے ۔ جب پٹیالہ میں پہنچ کر اور اپنے ضروری کاموں سے فراغت پا کر پھر واپس آنے کا ارادہ کیا تو عصر کی نماز کا وقت تھا۔ میں نے نماز پڑھنے کے قصد سے چونہ اُتارا تا وضو کروں ۔ اور اس چوند کو سید محمد حسن خان وزیر ریاست موعود ہے ۔ ثبوت تو یہ دینا چاہیے کہ وہ لڑکا جو تین کو چار کرنے والا ہوا اور مظہر جلال الہی ہو ۔ جو دنیا کو راہ راست پر لانے والا ہو گا اس کے آنے کی خبر بحیثیت الہام الہی کے اشتہار ۷ اگست ۱۸۸۷ء میں دی گئی ہے ۔ پس اگر یہ سچ ہے کہ اس اشتہار میں اس مبارک موعود کی خبر بحیثیت الہام دی گئی ہے تو ایک مجلس میں مجھے بلا ؤ اور اس الہام کو پیش کر و۔ آپ ذرہ سوچ لیں کہ کیا خیانتوں سے یہودیوں نے کوئی بہتری دیکھی تا آپ کو بھی کسی بہتری کی امید ہو ۔ اول با شرم انسان بننا چاہیے اور با انصاف مرد بننا چاہیے اور پھر سیدھے دل سے میرے الہام کے الفاظ میں غور کرنا چاہیے۔ اگر میں نے کسی اشتہار میں کوئی کلمہ اجتہادی طور پر لکھا ہو اور اپنا خیال ظاہر کیا ہو تو وہ حجت نہیں ہو سکتا اگر اس پر ضد کرو گے تو تمہیں تمام نبیوں سے انکار کرنا پڑے گا اور بجز مرتد اور دہر یہ ہو جانے سے کہیں تمہارا ٹھکانا نہ ہو گا کیونکہ اس بات سے کوئی نبی بھی باہر نہیں کہ کبھی اجتہادی طور پر اس سے غلطی نہ ہوئی ہو ۔ اگر