تریاق القلوب — Page 279
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۲۷۹ تریاق القلوب اور رسولوں اور محدثوں کے بارے میں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہو کر آتے ہیں اور تمام قوموں کے لئے واجب الاطاعت ٹھہرتے ہیں قدیم سے خدا تعالیٰ کا ایک خاص قانون ہے جو ہم ذیل میں لکھتے ہیں۔ ہم اس سے پہلے ابھی بیان کر چکے ہیں کہ ایسے اولیاء اللہ جو مامور نہیں ہوتے یعنی نبی یا رسول یا محدث نہیں ہوتے اور اُن میں سے نہیں ہوتے جو دنیا کو خدا کے حکم اور الہام سے خدا کی طرف بلاتے ہیں ایسے ولیوں کو کسی اعلیٰ خاندان یا اعلیٰ قوم کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ ان کا سب معاملہ اپنی ذات تک محدود ہوتا ہے لیکن ان کے مقابل پر ایک دوسری (۶۷) قسم کے ولی ہیں جو رسول یا نبی یا محدث کہلاتے ہیں اور وہ خدا تعالی کی طرف سے ایک منصب حکومت اور قضا کا لے کر آتے ہیں اور لوگوں کو حکم ہوتا ہے کہ ان کو اپنا امام اور سردار اور پیشوا سمجھ لیں اور جیسا کہ وہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہیں اس کے بعد خدا کے اُن نائبوں کی اطاعت کریں۔ اس منصب کے بزرگوں کے متعلق قدیم سے خدا تعالیٰ کی یہی عادت ہے کہ ان کو اعلیٰ درجہ کی قوم اور خاندان میں سے پیدا کرتا ہے تا ان کے قبول کرنے اور ان کی اطاعت کا جوا اُٹھانے میں کسی کو کراہت نہ ہو اور چونکہ خدا نہایت رحیم و کریم ہے اس لئے نہیں چاہتا کہ لوگ ٹھو کر کھاویں اور اُن کو ایسا ابتلا پیش آوے جو ان کو اس سعادت عظمیٰ سے محروم رکھے کہ وہ اُس کے مامور کے قبول کرنے سے اس طرح پر رک جائیں کہ اس شخص کی نیچے قوم کے لحاظ سے تنگ اور عار ان پر غالب ہو اور وہ دلی نفرت کے ساتھ اس بات سے کراہت کریں کہ اس کے تابعدار بنیں اور اس کو اپنا بزرگ قرار دیں اور انسانی جذبات اور تصورات پر نظر کر کے یہ بات خوب ظاہر ہے کہ یہ ٹھوکر طبعاً نوع انسان کو پیش آجاتی ہے۔ مثلاً ایک شخص جو قوم کا چوہڑہ یعنی بھنگی ہے اور ایک