تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 278 of 769

تریاق القلوب — Page 278

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۲۷۸ تریاق القلوب تعظیم سے ان کا نام لیا جائے ۔ اور جو شخص بعد اس تبدیلی کے ان کی تحقیر کرتا ہے یا ایسا خیال دل میں لاتا ہے وہ اندھا ہے اور خدا تعالیٰ کے غضب کے نیچے ہے۔ اور خدا کا عام قانون یہی ہے کہ اسلام کے بعد قوموں کی تفریق منادی جاتی ہے اور نیچ اور نیچ کا خیال دور کیا جاتا ہے۔ ہاں قرآن شریف سے یہ بھی مستنبط ہوتا ہے کہ بیاہ اور نکاح میں تمام قومیں اپنے قبائل اور ہم رتبہ قوموں یا ہم رتبہ اشخاص اور کفو کا خیال کر لیا کریں تو بہتر ہے تا اولاد کے لئے کسی داغ اور تحقیر اور جنسی کی جگہ نہ ہو لیکن اس خیال کو حد سے زیادہ نہیں کھینچنا چاہیے کیونکہ قوموں کی تفریق پر خدا کی کلام نے زور نہیں دیا صرف ایک آیت سے کفو اور حسب نسب کے لحاظ کا استنباط ہوتا ہے اور قوموں کی حقیقت یہ ہے کہ ایک مدت دراز کے بعد شریف سے رزیل اور رزیل سے شریف بن جاتی ہیں اور ممکن ہے کہ مثلاً بھنگی یعنی چوہڑے یا چمار جو ہمارے ملک میں سب قوموں سے رزیل تر خیال کئے جاتے ہیں کسی زمانہ میں شریف ہوں اور اپنے بندوں کے انقلابات کو خدا ہی جانتا ہے دوسروں کو کیا خبر ہے۔ سو عام طور پر پنجہ مارنے کے لائق یہی آیت ہے کہ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَكُم جس کے یہ معنے ہیں کہ تم سب میں سے خدا کے نزدیک بزرگ اور عالی نسب وہ ہے جو سب سے زیادہ اس تقویٰ کے ساتھ جو صدق سے بھری ہوئی ہو خدا تعالیٰ کی طرف جھک گیا ہو اور خدا سے قطع تعلق کا خوف ہر دم اور ہر لحظہ اور ہر ایک کام اور ہر ایک قول اور ہر ایک حرکت اور ہر ایک سکون اور ہر ایک خلق اور ہر ایک عادت اور ہر ایک جذبہ ظاہر کرنے کے وقت اُس کے دل پر غالب ہو۔ وہی ہے جو سب قوموں میں سے شریف تر اور سب خاندانوں میں سے بزرگ تر اور تمام قبائل میں سے بہتر قبیلہ میں سے ہے۔ اور اس لائق ہے کہ سب اس کی راہ پر فدا ہوں۔ غرض شریعت اسلامی کا یہ تو عام قانون ہے کہ تمام مدار تقویٰ پر رکھا گیا ہے لیکن نبیوں الحجرات :۱۴