تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 274 of 769

تریاق القلوب — Page 274

ر ۶۵ روحانی خزائن جلد ۱۵ ۲۷۴ تریاق القلوب جاگیر میں سے تقسیم ہو کر اس خاندان کے تمام لوگ جو خواجہ میر درد کے ورثاء ہیں اپنے اپنے حصے پاتے ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ یہ خاندان دہلوی جس سے دامادی کا مجھے تعلق ہے۔ صرف اسی وجہ سے فضیلت نہیں رکھتا کہ وہ اہل بیت اور سندی سادات ہیں۔ بلکہ اس وجہ سے بھی فضیلت رکھتا ہے کہ یہ لوگ دختر زادہ خواجہ میر درد ہیں اور دہلی میں یہ خاندان سلطنت چغتائیہ کے زمانہ میں اپنی صحت نسب اور شہرت خاندان سیادت اور نجابت اور شرافت میں ایسا مشہور رہا ہے کہ اسی عظمت اور شہرت اور بزرگی خاندان سیادت کی وجہ سے بعض نوابوں نے ان کو لڑکیاں دیں ۔ جیسا کہ ریاست لوہارو کا خاندان ۔ غرض یہ خاندان اپنی ذاتی خوبیوں اور نجابتوں کی وجہ سے اور نیز خواجہ میر درد کی دختر زادگان ہونے کے باعث سے ایسی عظمت کی نگہ سے دہلی میں دیکھا جاتا تھا کہ گویا دہلی سے مراد بقیہ حاشیہ۔ اور قریب قیاس ہے کہ میرزا کا خطاب ان کو کسی بادشاہ کی طرف سے بطور لقب کے دیا گیا ہو۔ لیکن الہام نے اس بات کا انکار نہیں کیا کہ سلسلہ مادری کی طرف سے ہمارا خاندان سادات سے ملتا ہے بلکہ الہامات میں اس کی تصدیق ہے اور ایسا ہی بعض کشوف میں بھی اس کی تصدیق پائی جاتی ہے۔ اس جگہ یہ عجیب نکتہ ہے کہ جب خدا تعالیٰ نے یہ ارادہ فرمایا کہ سادات کی اولاد کو کثرت سے دنیا میں بڑھاوے تو ایک شریف عورت فارسی الاصل کو یعنی شہر بانو کو ان کی دادی بنایا اور اس سے اہل بیت اور فارسی خاندان کے خون کو باہم ملادیا اور ایسا ہی اس جگہ بھی جب خدا تعالیٰ کا ارادہ ہوا کہ اس عاجز کو دنیا کی اصلاح کے لئے پیدا کرے اور بہت سی اولا د اور ذُریت مجھ سے دنیا میں پھیلا وے جیسا کہ اس کے اس الہام میں ہے جو براہین احمدیہ کے صفحہ ۴۹۰ میں درج ہے۔ تو پھر دوبارہ اس نے فارسی خاندان اور سادات کے خون کو باہم ملایا اور پھر میری اولاد کے لئے تیسری مرتبہ ان دونوں خونوں کو ملایا۔ صرف فرق یہ رہا کہ حسینی خاندان کے قائم کرنے کے وقت مرد یعنی امام حسین اولا د فاطمہ میں سے تھا اور اس جگہ عورت یعنی میری بیوی اولاد فاطمہ میں سے یعنی سید ہے جس کا نام بجائے شہر بانو کے نصرت جہاں بیگم ہے۔ منہ