تریاق القلوب — Page 273
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۲۷۳ تریاق القلوب ایک شریف قوم سے جو سید تھے کیا اور خود تمہارے نسب کو شریف بنایا جو فارسی خاندان اور سادات سے معجون مرکب ہے۔ اس پیشگوئی کو دوسرے الہامات میں اور بھی تصریح سے بیان کیا گیا ہے یہاں تک کہ اُس شہر کا نام بھی لیا گیا تھا جو دہلی ہے۔ اور یہ پیشگوئی بہت سے لوگوں کو سنائی گئی تھی جن میں سے ایک شیخ حامد علی اور میاں جان محمد اور بعض دوسرے دوست ہیں۔ اور ایسا ہی ہندوؤں میں سے شرمیت اور ملا وامل کھتریان ساکنان قادیان کو قبل از وقت یہ پیشگوئی بتلائی گئی تھی ۔ اور جیسا کہ لکھا تھا ایسا ہی ظہور میں آیا کیونکہ بغیر سابق تعلقات قرابت اور رشتہ کے دہلی میں ایک شریف اور مشہور خاندان سیادت میں میری شادی ہو گئی اور یہ خاندان خواجہ میر درد کی لڑکی کی اولاد میں سے ہے جو مشاہیرا کا بر سادات دہلی میں سے ہے۔ جن کو سلطنت چغتائی کی طرف سے بہت سے دیہات بطور جاگیر عطا ہوئے تھے ۔ اور اب تک اس جہ حاشیہ۔ ہمارے خاندان کی قومیت ظاہر ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ قوم کے برلاس مغل ہیں اور ہمیشہ اس خاندان کے اکابر امیر اور والیان ملک رہے ہیں وہ سمرقند سے کسی تفرقہ کی وجہ سے بابر بادشاہ کے وقت میں پنجاب میں آئے اور اس علاقہ کی ایک بڑی حکومت ان کو ملی اور کئی سو دیہات ان کی ملکیت کے تھے جو آخر کم ہوتے ہوتے رہینے رہ گئے اور سکھوں کے زمانہ میں وہ بھی ہاتھ سے جاتے رہے اور پانچ گاؤں باقی رہ گئے اور پھر ایک گاؤں ان میں سے جس کا نام بہادر حسین تھا جس کو حسین نامی ایک بزرگ نے آباد کیا تھا انگریزی سلطنت کے عہد میں ہاتھ سے جاتا رہا کیونکہ ہم نے خود اپنی غفلت سے ایک مدت تک اس گاؤں سے کچھ وصول نہیں کیا تھا اور جیسا کہ مشہور چلا آتا ہے ہماری قوم کو سادات سے یہ تعلق رہا ہے کہ بعض دادیاں ہماری شریف اور مشہور خاندان سادات سے ہیں لیکن مغل قوم کے ہونے کے بارے میں خدا تعالیٰ کے الہام نے مخالفت کی ہے جیسا کہ براہین احمدیہ صفحہ ۲۴۲ میں یہ الہام ہے خذوا التوحيــد الـتـوحـيـد يا ابناء الفارس یعنی تو حید کو پکڑ وتو حید کو پکڑ واے فارس کے بیٹو۔ اس الہام سے صریح طور پر سمجھا جاتا ہے کہ ہمارے بزرگ در اصل بنی فارس ہیں۔ یہ گاؤں بٹالہ سے شمالی طرف بفاصلہ تین کوس واقعہ ہے ۔ منہ