تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 246 of 769

تریاق القلوب — Page 246

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۲۴۶ تریاق القلوب یہ لوگ نہیں سوچتے کہ جبر سے کوئی عقیدہ دل میں داخل نہیں ہوسکتا بلکہ ہر ایک شخص جو ایسے ظالموں کے قابو آجائے اپنے دل میں ان کو نہایت بد انسان سمجھتا ہے گو جان چھڑانے کے لئے اس وقت ہاں میں ہاں ملاوے۔ یہ سخت حماقت ہوگی کہ اس جگہ ہمارے سید و مولیٰ جناب رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم کا حوالہ دیا جائے کہ آپ نے دین کے پھیلانے کے لئے جنگ کی کیونکہ میں اللہ تعالیٰ کی قسم سے کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان بنانے کے لئے کبھی جبر نہیں کیا اور نہ تلوار کھینچی اور نہ دین میں داخل کرنے کے لئے کسی کے ایک بال کو بھی نقصان پہنچایا۔ بلکہ وہ تمام نبوی لڑائیاں اور آنجناب کے صحابہ کرام کے جنگ جو اس وقت کئے گئے یا تو اس واسطے ان کی ضرورت پڑی کہ تا اپنی حفاظت کی جائے اور یا اس لئے ضرورت پڑی کہ تا ملک میں امن قائم کیا جائے اور جو لوگ اسلام کو اس کے پھیلنے سے روکتے ہیں اور اُن لوگوں کو قتل کر دیتے ہیں جو مسلمان ہوں ان کو کمزور کر دیا جائے جب تک کہ وہ اُس نالائق طریق سے تو بہ کر کے اسلام کی سلطنت کے مطیع ہو جائیں۔ پس ایسے جنگ کا اُس زمانہ میں کہاں پتہ ملتا ہے جو جبراً مسلمان بنانے کے لئے کی جاتی ہے۔ ہاں رحمت الہی نے قابل سزا قوموں کے لئے جو بہت سے خون کر چکی تھیں اور خونیوں کو مدد دے چکی تھیں اور اپنے جرائم کی وجہ سے عدالت کے رو سے قتل کے لائق تھیں رحیمانہ طور پر یہ رعایت رکھی تھی کہ ایسے مجرم اگر بچے دل سے مسلمان ہو جا ئیں تو ان کا وہ سنگین جرم معاف کر دیا جائے اور ایسے مجرموں کو اختیار ملا تھا کہ اگر چاہیں تو اس رحیمانہ قانون سے فائدہ اُٹھائیں۔ غرض جیسا کہ خدا تعالیٰ نے مسیح موعود کی یہ علامت قرآن شریف میں بیان فرمائی تھی کہ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلَّم لا وہ علامت میرے ہاتھ سے پوری ہوگئی۔ اور جس طرح عیسائیوں اور ہندوؤں پر حجت پوری کی گئی ایسا ہی سکھوں الصف: ١٠