تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 234 of 769

تریاق القلوب — Page 234

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۲۳۴ تریاق القلوب بکلی پر وہ نیستی میں مخفی ہوتی ہیں اور سالہائے دراز کے بعد ان کا ظہور ہوتا ہے۔ پھر اگر خدا تعالی نیستی سے ہستی نہیں کر سکتا تو کشفوں اور خوابوں میں ایسی ہستی کیوں ظہور میں آجاتی ہے جس کا خارج میں کوئی نام و نشان نہیں۔ مثلاً اگر کسی کے گھر میں ہیں سال کے بعد بیٹا پیدا ہونا ہو تو کبھی کبھی ایسا عجیب کشف یا عجیب خواب اس کو دکھلائی جاتی ہے کہ جو بیٹا پیدا ہونے سے پہلے بلکہ اُس بیٹے کی ماں کے وجود سے بھی پہلے وہ اپنے اس بیٹے کو خواب کی حالت میں یا کشف کی حالت میں بعینہ دیکھ لیتا ہے۔ بلکہ بسا اوقات اُس سے باتیں کر لیتا ہے اور بسا اوقات وہ بیٹا ایسے راز اس کو بتلاتا ہے کہ جو مدت ہائے دراز کے بعد اور تحصیل علم کے بعد وہ طاقت بیٹے میں پیدا ہوتی ہے پس اگر خدا تعالیٰ انسان کی طرح مادہ اور پر کرتی کا محتاج ہے۔ تو مثلاً وہ بیٹا جو خواب میں یا کشف میں حاضر کیا جاتا ہے جس کی ابھی ماں بھی پیدا نہیں ہوئی وہ کس مادہ یا پر مانو سے بنایا جاتا ہے۔ پس جبکہ وہ قادر اس قسم کی بناوٹ بھی جانتا ہے کہ اس حالت میں کسی انسان کا نشان ظاہر کر دیتا ہے اور مجسم طور پر عین بیداری میں اس کو دکھا دیتا ہے جبکہ وہ بکلی بے نشان ہوتا ہے تو پھر اس سے زیادہ اور کون سی حماقت ہوگی کہ اُس قادر کو مادہ کا محتاج سمجھا جائے ۔ اگر ایسا ہی پر میشر ہے تو اُس پر آئندہ کی دائمی خوشیوں کے لئے کوئی امید نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ آپ ہمیشہ مادہ اور روح کا محتاج ہے اور ایسی چیزوں کے سہارے سے اس کی خدائی چل رہی ہے جو اُس کے ہاتھ سے نکلی نہیں اور نہ نکل سکتی ہیں ۔ پس ہندوؤں کے ویدوں کی یہ صریح غلطی ہے کہ وہ خدائی طاقت اور انسانی طاقت کو برابر درجہ پر سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کسی اتفاق سے جس کا بھید معلوم نہیں اس قدر روحیں اور مادے موجود چلی آتی ہیں جو پر میشر کی اپنی پیدا کردہ نہیں۔ اور انہی پر تمام کارخانہ پر میشر گری کا چل رہا ہے۔ اور اگر فرض اس کے ثبوت کے لئے ہم خودذ مہ دار ہیں مگر وہ لوگ کہاں ہیں جو سچائی کے طالب ہو کر آویں ؟ منه