تریاق القلوب — Page 233
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۲۳۳ تریاق القلوب جس نے مخلوق کو عدم سے وجود دیا ہو بلکہ ہر ایک چیز قدیم اور اپنے وجود کی آپ خدا ہے پس اس صورت میں ہندوؤں کے پر میشر کی شناخت کے لئے اور اُس کی ہستی کو ماننے کے ۴۸ کے لئے کوئی دلیل قائم نہیں ہو سکتی بلکہ اس مدعا کے مخالف دلائل قائم ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے ہندوؤں میں نصف کے قریب وہ فرقے ہیں جو پر میشر کے وجود سے ہی منکر ہیں کیونکہ وید کی اس تعلیم کے رو سے کہ ارواح اور مادہ خود بخود ہیں پر میشر کے وجود کی کچھ ضرورت معلوم نہیں ہوتی اور ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ جب یہ تمام قومی جو روحوں اور ذرات میں موجود ہیں کسی موجد کی محتاج نہیں اور ان کا وجود کسی صانع کے وجود پر موقوف نہیں تو پھر صرف روح اور جسم کو جوڑنے کی صنعت جوادنی درجہ کی صنعت ہے، کیونکر کسی صانع کی محتاج ہو سکتی ہے۔ غرض یہ خیال کہ پر میشر نے بعض اجزا کو بعض سے جوڑا ہے اور روح کو جو قدیم سے خود بخود دموجود ہے۔ ان قدیم اجسام میں داخل کیا ہے یہ نہایت کمزور خیال ہے اور اس کو صانع کے وجود پر دلیل سمجھنا سراسر نا کبھی ہے۔ کیونکہ جبکہ یہ تمام چیزیں قدیم سے علیحدہ علیحدہ خود بخود موجود ہیں اور اپنے وجود اور بقا میں دوسرے کی محتاج نہیں تو پھر ان چیزوں کے باہمی اتصال یا انفصال کیلئے کیوں پر میشر کی حاجت ہے۔ اگر پر میشر کی ذات ایسی واقع نہیں جو اُسی سے تمام چیزوں کا ظہور ہو اور اُسی سے تمام چیزوں کی بقا ہو اور اُسی سے ہر ایک چیز کو فیض پہنچے تو خود اُس کا وجود فضول ہوگا اور اُس کے وجود پر کسی چیز کی دلالت کاملہ نہیں ہوگی ۔ ہندوؤں کا یہ خیال کہ نیستی سے ہستی نہیں ہو سکتی صاف بتلا رہا ہے کہ خدا تعالیٰ اور اُس کی ذات اور صفات کی معرفت کی سچی کتابیں ہرگز ان کو نہیں ملیں لہذا انہوں نے اپنے پر میشر کے افعال اور اس کی قوت اور شکتی کو صرف انسان کی قوت اور شکتی پر قیاس کر لیا ہے۔ ان کو یہ بھی معلوم نہیں کہ کیونکر انسان کی کچھی خوابوں اور واقعی کشفوں میں ہزار ہا ایسی چیزیں وجود پذیر ہو جاتی ہیں کہ ابھی وہ