تریاق القلوب — Page 203
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۲۰۳ تریاق القلوب شادی میں تجھے کچھ فکر نہیں کرنا چاہیے۔ ان تمام ضروریات کا رفع کرنا میرے ذمہ رہے گا۔ سو قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اُس نے اپنے وعدہ کے موافق اس شادی کے بعد ہر ایک بار شادی سے مجھے سبکدوش رکھا اور مجھے بہت آرام پہنچا۔ کوئی باپ دنیا میں کسی بیٹے کی پرورش نہیں کرتا جیسا کہ اُس نے میری کی۔ اور کوئی والدہ پوری ہشیاری سے دن رات اپنے بچہ کی ایسی خبر نہیں رکھتی جیسا کہ اُس نے میری رکھی اور جیسا کہ اُس نے بہت عرصہ پہلے براہین احمدیہ میں یہ وعدہ کیا تھا کہ یا احمد اسکن انت وزوجك الجنة ۔ ایسا ہی وہ بجالا یا۔ معاش کا غم کرنے کے لئے کوئی گھڑی اُس نے میرے لئے خالی نہ رکھی ۔ اور خانہ داری کے مہمات کے لئے کوئی اضطراب اُس نے میرے نزدیک آنے نہ دیا۔ ایک ابتلا مجھ کو اس شادی کے وقت یہ پیش آیا کہ بباعث اس کے کہ میرا دل اور دماغ سخت کمزور تھا اور میں بہت سے امراض کا نشانہ رہ چکا تھا اور دو مرضیں یعنی ذیا بیٹیس اور در دسر مع دوران سر قدیم سے میرے شامل حال تھیں جن کے ساتھ بعض اوقات تشیع قلب بھی تھا۔ اس لئے میری حالت مردمی کا لعدم تھی اور پیرانہ سالی کے رنگ میں میری زندگی تھی۔ اس لئے میری اس شادی پر میرے بعض دوستوں نے افسوس کیا۔ اور ایک خط جس کو میں نے اپنی جماعت کے بہت سے معزز لوگوں کو دکھلا دیا ہے جیسے اخویم مولوی نور الدین صاحب اور اخویم مولوی برہان الدین وغیرہ ۔ مولوی محمد حسین صاحب ایڈیٹر اشاعۃ السنہ نے ہمدردی کی راہ سے میرے پاس بھیجا کہ آپ نے شادی کی ہے اور مجھے حکیم محمد شریف کی زبانی معلوم ہوا ہے کہ آپ باعث سخت کمزوری کے اس لائق نہ تھے ۔ اگر یہ امر آپ کی روحانی قوت سے تعلق رکھتا ہے تو میں اعتراض نہیں کرسکتا کیونکہ میں اولیاء اللہ کے خوارق اور روحانی قوتوں کا منکر نہیں ورنہ ایک بڑے فکر کی بات ہے ۔ ایسا نہ ہو کہ