تریاق القلوب — Page 168
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۱۶۸ تریاق القلوب اور دنیا میں کوئی عیسائی نہیں کہ جو آسمانی نشان میرے مقابل پر دکھلا سکے۔ اور دوسرے خدا کے فضل اور کرم اور رحم نے میرے پر ثابت کر دیا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام نہ صلیب پر فوت ہوئے نہ آسمان پر چڑھے بلکہ صلیب سے نجات پاکر کشمیر کے ملک میں آئے اور اسی جگہ وفات پائی۔ یہ باتیں صرف قصہ کہانیوں کے رنگ میں نہیں ہیں بلکہ بہت سے کامل ثبوتوں کے ساتھ ثابت ہوگئی ہیں جن کو میں نے اپنی کتاب مسیح ہندوستان میں مفصل بیان کر دیا ہے۔ اس لئے میں زور سے اور دعوے سے کہتا ہوں کہ جس کسر صلیب کا بخاری میں وعدہ تھا اس کا پورا سامان مجھے عطا کیا گیا ہے اور ہر ایک عقل سلیم گواہی دے گی کہ بجز اس صورت کے اور کوئی مؤثر اور معقول صورت کسر صلیب کی نہیں۔ اب میں سوال کرتا ہوں کہ اگر میں جھوٹا ہوں اور مسیح موعود نہیں ہوں تو ہمارے مخالف علماء اسلام بتلاویں کہ جب اُن کا مسیح موعود دنیا میں ظاہر ہوگا تو وہ کسر صلیب کے لئے کیا کارروائی کرے گا اور ہمیں معقول طور پر سمجھائیں کہ کیا وہ ایسی کارروائی ہوگی جس سے چالیس کروڑ عیسائی اپنے دین کا باطل ہونا دلی یقین سے سمجھ سکے ۔ اس سوال کے جواب میں ہمارے گرفتار تقلید مولوی بجز اس کے کچھ نہیں کہہ سکتے کہ جب ان کا مسیح آئے گا تو لوگوں کو تلوار سے مسلمان کرے گا اور ایسا سخت دل ہوگا کہ جزیہ بھی قبول نہیں کرے گا۔ اس کی تقسیم اوقات یہ ہوگی کہ کچھ حصہ دن کا تو لوگوں کو قتل کرنے میں بسر کرے گا اور کچھ حصہ دن کا جنگلوں میں جا کر سوروں کو مارتا رہے گا۔ اب ہر ایک منظمند موازنہ کر سکتا ہے کہ کیا وہ امور جو ۲۲ اشاعت اسلام اور کسر صلیب کے لئے ہم پر کھولے گئے ہیں وہ دلوں کو کھینچنے والے اور مؤثر معلوم ہوتے ہیں یا ہمارے مسلمان مخالفوں کے فرضی مسیح موعود کا یہ طریق کہ گویا وہ آتے ہی بے خبر اور غافل لوگوں کو قتل کرنا شروع کر دے گا۔ یادر ہے کہ عیسائی مذہب اس قدر دنیا میں پھیل گیا ہے کہ صرف آسمانی نشان بھی اس کے زیر کرنے کے لئے کافی نہیں ہو سکتے کیونکہ مذہب کو چھوڑ نا بڑا مشکل امر ہے۔ لیکن یہ صورت کہ ایک طرف تو آسمانی نشان دکھلائے جائیں اور