توضیح مرام — Page 109
روحانی خزائن جلد ۳ 1+9 ازالہ اوہام حصہ اول وہ الفاظ بیان نہیں فرمائے جو اس عاجز نے بزعم ان کے اپنی تالیفات میں استعمال کئے ہیں اور در حقیقت سب و شتم میں داخل ہیں۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ جہاں تک مجھے معلوم ہے میں نے ایک لفظ بھی ایسا استعمال نہیں کیا جس کو دشنام دہی کہا جائے بڑے دھو کہ کی بات یہ ہے کہ اکثر لوگ دشنام دہی اور بیان واقعہ کو ایک ہی صورت میں سمجھ لیتے ہیں اور ان دونوں مختلف مفہوموں میں فرق کرنا نہیں جانتے بلکہ ایسی ہر یک بات کو جو دراصل ایک واقعی امر کا اظہار ہو اور اپنے محل پر چسپاں ہو محض اس کی کسی قدرمرارت کی وجہ سے جو حق گوئی کے لازم حال ہوا کرتی ہے دشنام ہی تصور کر لیتے ہیں حالانکہ دشنام اور سب اور شتم فقط اس مفہوم کا نام ہے جو خلاف واقعہ اور دروغ کے طور پر محض آزار رسانی کی غرض سے استعمال کیا جائے اور اگر ہر یک سخت اور آزاردہ تقریری محض بوجہ اس کے مرارت اور تلخی اور ایذارسانی کے دشنام کے مفہوم میں داخل کر سکتے ہیں تو پھر اقرار کرنا پڑے گا کہ سارا قرآن شریف گالیوں سے پر ہے کیونکہ جو کچھ (۱۳) بتوں کی ذلت اور ثبت پرستوں کی حقارت اور ان کے بارہ میں لعنت ملامت کے سخت الفاظ قرآن شریف میں استعمال کئے گئے ہیں یہ ہرگز ایسے نہیں ہیں جن کے سننے سے بت پرستوں کے دل خوش ہوئے ہوں بلکہ بلاشبہ ان الفاظ نے ان کے غصہ کی حالت کی بہت تحریک کی ہو گی۔ کیا خدائے تعالیٰ کا کفار مکہ کو مخاطب کر کے یہ فرمانا کہ اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ معترض کے من گھڑت قاعدہ کے موافق گالی میں داخل نہیں ہے کیا خدائے تعالیٰ کا قرآن شریف میں کفار کو شَرُّ الْبَرِيَّة قرار دینا اور تمام رذیل اور پلید مخلوقات سے انہیں بدتر ظاہر کرنا یہ معترض کے خیال کے رو سے دشنام دہی میں داخل نہیں ہو گا ؟ کیا خدائے تعالیٰ نے قرآن شریف میں واغلظ عَلَيْهِمْ کے نہیں فرمایا کیا مومنوں کی علامات میں أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ سے نہیں رکھا گیا کیا حضرت مسیح کا یہودیوں کے معزز فقیہوں اور فریسیوں کو سو ر اور کتے کے نام سے پکارنا اور کلیل کے عالی مرتبہ فرمانروا ہیرودیس کا لونبری نام رکھنا اور معزز سردار کا ہنوں اور فقیہوں کو ۱۵ الانبياء : ٩٩ ٢ التوبة :۷۳ الفتح : ٣٠