توضیح مرام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 108 of 748

توضیح مرام — Page 108

روحانی خزائن جلد ۳ ۱۰۸ ہم اور ہمارے نکتہ چین ازالہ اوہام حصہ اول بعضے صاحبوں نے نکتہ چینی کے طور پر اس عاجز کی عیب شماری کی ہے اور اگر چہ انسان عیب سے خالی نہیں اور حضرت مسیح کا یہ کہنا سچ ہے کہ میں نیک نہیں ہوں نیک ایک ہی ہے یعنی خدا ۔ لیکن چونکہ ایسی نکتہ چینیاں دینی کاروائیوں پر بداثر ڈالتی ہیں اور حق کے طالبوں کو رجوع لانے سے روکتی ہیں اس لئے برعایت اختصار بعض نکتہ چینیوں کا جواب دیا جاتا ہے۔ پہلی نکتہ چینی اس عاجز کی نسبت یہ کی گئی ہے کہ اپنی تالیفات میں مخالفین کی نسبت سخت الفاظ استعمال کئے ہیں جن سے مشتعل ہو کر مخالفین نے اللہ جل شانہ اور اس کے رسول کریم کی بے ادبی کی اور پر دشنام تالیفات شائع کر دیں ۔ قرآن شریف میں صریح حکم وارد ہے کہ مخالفین کے معبودوں کو سب اور شتم سے یا دمت کروتا وہ بھی بے سمجھی اور کینہ سے خدائے تعالیٰ کی نسبت سب وشتم کے ساتھ زبان نہ کھولیں ۔ لیکن اس جگہ برخلاف طریق ماموریہ کے سب وشتم ۱۳ سے کام لیا گیا۔ اما الجواب پس واضح ہو کہ اس نکتہ چینی میں معترض صاحب نے انہیں مخاطب کر کے یہ الفاظ استعمال کئے کہ اس زمانہ کے بد اور حرامکار لوگ نشان ڈھونڈتے ہیں الخ اور پھر اسی پر بس نہیں کی بلکہ وہ اُن معزز بزرگوں کو ہمیشہ دشنام دہی کے طور پر یاد کرتے رہے۔ کبھی انہیں کہا اے سانپواے سانپ کے بچو ۔ دیکھو متی باب ۲۳ آیت ۳۳ کبھی انہیں کہا اندھے۔ دیکھو متی باب ۱۵ آیت ۱۴ کبھی انہیں کہا اے ریا کارو۔ دیکھو متی باب ۲۳ آیت ۱۳ کبھی انہیں نہایت فحش کلمات سے یہ کہا کہ کنجریاں تم سے پہلے خدائے تعالیٰ کی بادشاہت میں داخل ہوتی ہیں اور کبھی اُن کا نام سور اور کتا رکھا۔ دیکھو مستی باب ۲۱ آیت ۳۱ ۔ اور کبھی اُنہیں احمق کہا دیکھو متی باب ۲۳ آیت ۷ اکبھی انہیں کہا کہ تم جہنمی ہو دیکھو متی باب ۲۲ آیت ۱۶۔ حالانکہ آپ ہی علم اور خلق کی نصیحت دیتے ہیں بلکہ فرماتے ہیں کہ جو کوئی اپنے بھائی کو احمق کہے جہنم کی آگ کا سزاوار ہو گا اس اعتراض کا جواب اُن مطاعن کے جواب میں دیا جائے گا جو تہذیب کے بارے میں بعض خوش فہم آدمیوں نے اس عاجز کی نسبت کئے ہیں۔ منہ