تحفۂ قیصریہ — Page 261
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۶۱ تحفہ قیصر خلاصہ یہ کہ دنیا کی بھلائی اور امن اور صلح کاری اور تقویٰ اور خدا ترسی اسی (1) اصول میں ہے کہ ہم ان نبیوں کو ہر گز کا ذب قرار نہ دیں جن کی سچائی کی نسبت کروڑ با انسانوں کی صدہا برسوں سے رائے قائم ہو چکی ہوا اور خدا کی تائید میں قدیم سے ان کے شامل حال ہوں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ ایک حق کا طالب خواہ وہ ایشیائی ہویا یوروپین ہمارے اس اصول کو پسند کرے گا اور آہ کھینچ کر کہے گا کہ افسوس ہمارا اصول ایسا کیوں نہ ہوا۔ میں اس اصول کو اس غرض سے حضرت ملکہ معظمہ قیصرہ ہند و انگلستان کی خدمت میں پیش کرتا ہوں کہ امن کو دنیا میں پھیلانے والا صرف یہی ایک اصول ہے جو ہمارا اصول ہے اسلام فخر کر سکتا ہے کہ اس پیارے اور دلکش اصول کو خصوصیت سے اپنے ساتھ رکھتا ہے۔ کیا ہمیں روا ہے کہ ہم ایسے بزرگوں کی کسر شان کریں جو خدا کے فضل نے ایک دنیا کو ان کے تابعدار کر دیا اور صد ہا برسوں سے بادشاہوں کی گردنیں ان کے آگے جھکتی چلی آئیں ؟ کیا ہمیں روا ہے کہ ہم خدا کی نسبت یہ بدظنی کریں کہ وہ جھوٹوں کو بچوں کی شان دے کر اور بچوں کی طرح کروڑ با لوگوں کا ان کو پیشوا بنا کر اور ان کے مذہب کو ایک لمبی عمر دے کر اور ان کے مذہب کی تائید میں آسمانی نشان ظاہر کر کے دنیا کو دھوکا دینا چاہتا ہے؟ اگر خدا ہی ہمیں دھوکا دے تو پھر ہم راست اور ناراست میں کیونکر فرق کر سکتے ہیں؟ یہ بڑا ضروری مسئلہ ہے کہ جھوٹے نبی کی شان و شوکت اور قبولیت اور عظمت ایسی پھیلنی نہیں چاہیے جیسا کہ بچے کی اور جھوٹوں کے منصوبوں میں وہ رونق پیدا نہیں ہونی چاہیے جیسا کہ بچے کے کاروبار میں پیدا ہونی چاہیے۔ اسی لئے بچے کی اوّل علامت یہی ہے کہ خدا کی دائگی تائیدوں کا سلسلہ اس کے شامل حال ہو اور خدا اس کے مذہب کے پودہ کو کروڑہا دلوں میں لگا دیوے اور عمر بخشے ۔ پس جس نبی کے مذہب