تحفۂ غزنویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 572 of 769

تحفۂ غزنویہ — Page 572

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۷۲ تحفه غزه نوب قبله الرسل موجود ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے پیغمبر گذرے۔ اقول ۔ کیا گذرنا بجز مرنے کے کوئی اور چیز بھی ہے ۔ جو شخص دنیا سے گذر گیا اُسی کو تو کہتے ہیں کہ مر گیا۔ شیخ سعدی فرماتے ہیں۔ سے پدر چوں دور عمرش منقضی گشت مرا ایس یک نصیحت داد و بگذشت اب بتلاؤ کہ بگذشت کے اس جگہ کیا معنے ہیں کیا یہ کہ شیخ سعدی علیہ الرحمة کا باپ زندہ جسم عنصری آسمان پر چلا گیا تھا یا یہ کہ مر گیا تھا۔ اے عزیز کیا ان تاویلات رکیکہ سے ثابت ہو جائے گا کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ مع جسم عنصری آسمان پر چلے گئے تھے ۔ تمام دنیا کا یہ محاورہ ہے کہ جب مثلاً کہا جائے کہ فلاں بیمار گذر گیا تو کوئی بھی یہ معنے نہیں کرتا کہ وہ آسمان پر مع جسم عنصری چڑھ گیا اور عربی میں بھی گذرنا بمعنی مرنا ایک قدیم محاورہ ہے چنانچہ ایک فاضل کی نسبت جو کسی کتاب کو تالیف کرنا چاہتا تھا اور قبل از تالیف مر گیا کسی کا یہ پورانا شعر ہے ۔ ولم يتفق حتى مضى بسبيله وكم حسرات في بطون المقابر یعنی اس فاضل کو اس کتاب کا تالیف کرنا اتفاق نہ ہوا یہاں تک کہ گذر گیا اور قبروں کے پیٹ میں بہت سی حسرتیں ہیں یعنی اکثر لوگ قبل اس کے جو اپنے ارا دے پورے کریں مر جاتے ہیں اور حسرتوں کو قبروں میں ساتھ لے جاتے ہیں۔ اب دیکھو کہ اس جگہ بھی گذرنا بمعنی مرنے کے ہے ۔ اور اگر یہ کہو کہ کس تفسیر والے نے یہ معنے لکھے ہیں تو اس کا یہ جواب ہے کہ ہر ایک محقق مفسر جو عقل اور بصیرت اور علم بصیرت سے حصہ رکھتا ہے یہی معنے لکھتا ہے ۔ دیکھو تفسیر مظہری صفحہ ۴۸۵ زیر آیت قد خلت من قبله الرسل يعنى مضت و ماتت من قبله الرسل يعنى