تحفۂ غزنویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 571 of 769

تحفۂ غزنویہ — Page 571

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۷۱ تحفه غزنویه یعنی وہ مرفوع متصل ہو یہ اور جہالت ہے کیا جو منقطع حدیث ہو اور مرفوع متصل نہ ہو وہ حدیث نہیں کہلاتی ۔ شیعہ مذہب کے امام اور محدث کسی (۳۹) حدیث کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک نہیں پہنچاتے تو کیا اُن اخبار کا نام احادیث نہیں رکھتے اور خود سنیوں کے محدثوں نے بعض اخبار کو موضوع کہہ کر پھر بھی اُن کا نام حدیث رکھا ہے اور حدیث کو کئی قسموں پر منقسم کر کے سب کا نام حدیث ہی رکھ دیا ہے۔ افسوس کہ تم لوگوں کی کہاں تک نوبت پہنچ گئی ہے کہ اُن باتوں کا نام بھی جھوٹ رکھتے ہو جس طرز کو قرآن شریف نے اختیار کیا ہے اور محض شرارت سے خدا کی پاک کلام پر حملہ کرتے ہو ۔ ظاہر ہے کہ اگر مثلاً کوئی یہ کہے کہ میں نے پلاؤ کی ساری رکابی کھالی تو اُس کو یہ نہیں کہہ سکتے کہ اُس نے جھوٹ بولا ہے ۔ اور جھوٹ یہ کہ اُس نے چاول کھائے ہیں رکا بی کو توڑ کر تو نہیں کھایا ۔ اور جبکہ نصوص حدیثیہ کا استدلال کلیت کا فائدہ بخشتا ہے تو یہ کہنا کہ حدیث کے رو سے لمّا تو فیتنی کے معنے لما امتنى ہیں یعنی اس بنا پر کہ متوفیک مُمیتک آچکا ہے اس میں کون سا کذب اور دروغ ہے لیکن ایسے جاہل کو کون سمجھائے جو اپنی جہالت کے ساتھ تعصب کی زہر بھی مخلوط رکھتا ہے ۔ مگر غنیمت ہے کہ جیسا کہ یہ لوگ تین جھوٹ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف منسوب کرتے ہیں ایسا ہی تین جھوٹ میری طرف بھی منسوب کئے ۔ ہم اس ابراہیمی مشابہت پر فخر کرتے ہیں لیکن ان لوگوں کے جھوٹ اور افترا کو ان کے منہ پر مارتے ہیں ۔ قوله - دوسرا جھوٹ اس صفحہ سطر ۲۳ و ۲۴ میں لکھا ہے ۔ قرآن شریف کا یہ فرمانا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کوئی نبی ایسا نہیں گذرا جو فوت نہیں ہو گیا یہ بھی سراسر جھوٹ ہے قرآن شریف میں فقط خَلَتْ مِنْ