تحفۂ غزنویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 561 of 769

تحفۂ غزنویہ — Page 561

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۶۱ تحفه غزنویه تجھے علماء سے مل گیا تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ پھر تجھے تیرا پیش کردہ نشان دکھلا دوں گا اور اگر نہ ملا تو تیرے جھوٹ کی یہ سزا تجھے کافی ہے کہ تیری ہی قوم کے نامی علماء نے تیری تکذیب کی اور ہماری طرف سے یہ پیشگوئی یا د رکھو کہ نامی علماء جیسے نذیر حسین دہلوی اور رشید احمد گنگوہی ہرگز تجھے یہ فتویٰ نہیں دیں گے اگر چہ تو اُن کے سامنے روتا رو تا مر بھی جائے اور ناظرین کو چاہیے کہ اس شخص کا جو خدا کی شریعت میں تحریف اور تلیس کرتا ہے پیچھا نہ چھوڑیں جب تک ایسا فتویٰ علماء کا پیش نہ کرے۔ کیونکہ وہ طریق جو نشان مانگنے میں اُس نے اختیار کیا ہے وہ خدا سے جنسی اور ٹھٹھا ہے۔ یاد رہے کہ سب سے پہلے دنیا میں شیطان نے حضرت عیسیٰ سے بیت المقدس میں نشان مانگا تھا اور کہا تھا کہ اپنے تئیں اس عمارت سے نیچے گرا دے اگر زندہ بچ رہا تو میں تجھے (۳۱) پر ایمان لاؤں گا مگر حضرت مسیح نے فرمایا کہ دور ہواے شیطان کیونکہ لکھا ہے کہ خدا کا امتحان نہ کر ۔ اس جگہ ایک پادری صاحب انجیل کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ در حقیقت وہ انسان ہی تھا جس نے حضرت مسیح سے اقتراحی نشان مانگا تھا اور حضرت مسیح نے خود اُس کا نام شیطان رکھا کیونکہ اُس نے خدا کو اپنی مرضی کا محکوم بنا نا چاہا۔ پس انجیل کے اس قصے کی رو سے میاں عبد الحق کے لئے بھی بڑی خوف کی جگہ ہے جب انسان امانت سے بات نہیں کرتا تو اُس وقت شیطان کا محکوم ہوتا ہے گویا خود وہی ہوتا ہے چنانچہ آیت مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اِس کی شاہد ہے ۔ قولہ ۔ مرزا اور مرزائیوں کو قیامت اور حساب اور جنت اور دوزخ پر ایمان نہیں دہر یہ مذہب معلوم ہوتے ہیں کیونکہ جس کو قیامت پر ایمان ہوتا ہے وہ ایسا آزاد دھوکہ باز مفترى على الله وعلى الرسول وعلى الناس نہیں ہوتا۔ الناس: