تحفۂ غزنویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 560 of 769

تحفۂ غزنویہ — Page 560

روحانی خزائن جلد ۱۵ تحفه غزنویه کریں گی ۔ دیکھو اس طریق سے بھی وہی تمہارا مطلب حاصل ہے پھر اگر دل میں مادہ فساد نہیں تو ایسا اُلٹا طریق کیوں اختیار کرتے ہو جس طریق کے اختیار کرنے والے حضرت عیسی علیہ السلام کی زبان پر حرامکار کہلائے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر جہنمی اور لعنتی کہلائے ۔ اگر تمہارے دل میں ایک ذرہ ایمان ہے تو یہ طریق جو خدا تعالیٰ کی طرف سے میں پیش کرتا ہوں اس میں حرج کیا ہے۔ کیا تم گالیوں اور دہر یہ کہنے سے فتح پا جاؤ گے۔ یقیناً اُس گروہ کی فتح ہے جو د ہر یہ نہیں ہیں اور خدا تعالیٰ پر سچا ایمان رکھتے ہیں اور ہنسی ٹھٹھے سے پر ہیز کرتے ہیں اور گذشتہ کافروں کی طرح اپنے اقتراح سے نشان نہیں مانگتے بلکہ خدا کے پیش کردہ نشانوں میں غور کرتے ہیں ۔ ۲۰ اے موت سے غافل امانت اور دیانت کے طریق سے کیوں باہر جاتا ہے اور ایسی باتیں کیوں زبان پر لاتا ہے جن میں تیرا دل ہی تجھے ملزم کر رہا ہے کہ تو جھوٹ بولتا ہے ۔ سچ کہہ کیا اب تک تجھے خبر نہیں کہ خدا کو محکوم بنا کر کوئی بات امتحان کے طور پر اس سے مانگنا یہ طریق صلحاء کا نہیں ہے بلکہ خدا کی کلام میں اس طریق کو ایک معصیت اور ترک ادب قرار دیا گیا ہے ۔ قرآن کو غور سے پڑھ اور پھر سوچ کہ جو لوگ اقتراحی نشان مانگتے تھے یعنی اپنے اپنے خود تراشیدہ نشانوں کو طلب کرتے تھے ان کو قرآن میں کیا جواب ملتا تھا اور وہ اللہ تعالی کی نظر میں مورد غضب تھے یا مور درحم تھے اور اگر کچھ حیا اور شرم اور شوق تحقیق حق ہے اور اگر اپنے دعوے میں بچے ہو تو اپنے اُن علماء سے جو دین سے کچھ خبر رکھتے ہیں یہ فتویٰ لو کہ کیا خدا پر یہ حق واجب ہے کہ جب اس کے کسی نبی یا محدث یا رسول سے کوئی فرقہ کفار اور بے ایمانوں کا خود تراشیده نشان مانگے تو وہ نشان اس کو دکھلا دے اور اگر نہ دکھلا وے تو وہ نبی جس سے ایسا نشان طلب کیا جائے جھوٹا ٹھہرے گا پس اگر یہ فتویٰ