تجلیاتِ الہٰیہ — Page 428
۴۲۴ قادیان کے آریہ اور ہم روحانی خزائن جلد ۲۰ جن پر پینتیس برس کا عرصہ گزر گیا ہے۔ میں نے اس الہام کو یعنی اليْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ کو مُہر میں کھدوانے کے لئے تجویز کی اور لالہ ملا وامل آریہ کو اس مہر کے کھدوانے کے لئے امرتسر میں بھیجا اور محض اس لئے بھیجا کہ تا وہ اور لالہ شرمیت دوست اس کا دونوں اس پیشگوئی کے گواہ ہو جائیں چنانچہ وہ امرتسر گیا اور معرفت حکیم محمد شریف کلانوری کے پانچ روپیہ اجرت دے کر مُہر بنوا لایا جس کا نقش آليْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَہ ہے جو اب تک موجود ہے۔ یہ الہام قریباً پینتیش کیا چھتیس برس کا ہے جس کے یہ دونوں آریہ صاحبان گواہ ہیں اور ان کو معلوم ہے کہ اُس زمانہ میں میری کیا حیثیت تھی ۔ پھر اُس زمانہ میں جبکہ براہین احمدیہ جس میں مذکورہ بالا الہامات درج ہیں بمقام امرتسر پادری رجب علی کے مطبع میں چھپ رہی تھی ان دونوں آریوں کو خوب معلوم ہے کہ میں کیسا گمنامی میں زندگی بسر کرتا تھا یہاں تک کہ کئی دفعہ یہ دونوں آریہ امرتسر میں میرے ساتھ جاتے تھے اور بجز ایک خدمتگار کے دوسرا آدمی نہیں ہوتا تھا۔ اور بعض دفعہ صرف لالہ شرمیت ہی ساتھ جاتا تھا۔ یہ لوگ حلفاً کہہ سکتے ہیں کہ اُس زمانہ میں میری گمنامی کی حالت کس درجہ تک تھی نہ قادیان میں میرے پاس کوئی آتا تھا اور نہ کسی شہر میں میرے جانے پر کوئی میری پر وا کرتا تھا اور میں ان کی نظر میں ایسا تھا جیسا کہ کسی کا عدم اور وجود برابر ہوتا ہے۔ اب وہی قادیان ہے جس میں ہزاروں آدمی میرے پاس آتے ہیں اور وہی شہر امرتسر اور لاہور وغیرہ ہیں جو میرے وہاں جانے کی حالت میں صدہا آدمی پیشوائی کے لئے ریل پر پہنچتے ہیں (۱۰) بلکہ بعض وقت ہزار ہا لوگوں تک نوبت پہنچتی ہے۔ چنانچہ سن 19ء میں جب میں نے جہلم کی طرف سفر کیا تو سب کو معلوم ہے کہ قریباً گیارہ ہزار آدمی پیشوائی کے لئے آیا تھا۔ ایسا ہی قادیان میں صد با مہمانوں کی آمد کا ایک سلسلہ جواب جاری ہے اُس زمانہ میں اس کا نام ونشان نہ تھا۔ اور قادیان کے تمام ہندوؤں کو اور خاص کر لالہ شرمیت اور ملا وامل کو ( جواب قوم کے دباؤ کے نیچے آکر خدا کے نشانوں سے منکر ہوتے ہیں) خوب معلوم ہے کہ ان دنوں میں ہمارا مردانہ مکان محض و مجھے واقعی طور پر معلوم نہیں کہ در حقیقت لالہ شرمیت اور لالہ ملا وامل سچ مچ ان تمام نشانوں سے