تجلیاتِ الہٰیہ — Page 427
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۴۲۳ قادیان کے آریہ اور ہم کہ اب تک کئی لاکھ روپیہ آچکا ہے اور قریباً پندرہ سور و پید اور کبھی دو ہزار ماہوار لنگر خانہ پر خرچ ہو جاتا ہے اور مدرسہ وغیرہ کی آمدنی علیحدہ ہے۔ یہ ایک ایسا نشان ہے کہ جس سے قادیان کے ہندوؤں کو فائدہ اُٹھانا چاہیے تھا کیونکہ وہ اس نشان کے اول گواہ تھے ان کو پے ہے معلوم تھا کہ اس پیشگوئی کے زمانہ میں میں کس قدر گمنام اور پوشیدہ تھا۔ یہ تقریر تھی جو اس جلسہ میں میں نے کی تھی اور تقریر کے آخر میں میں نے یہ بھی بیان کیا تھا کہ اس نشان کے سب آریوں میں سے بڑھ کر گواہ لالہ شرمیت اور لالہ ملا وامل ساکنان قادیان ہیں کیونکہ اُن کے روبرو کتاب براہین احمدیہ جس میں یہ پیشگوئی ہے چھپی اور شائع ہوئی ہے بلکہ براہین احمدیہ کے چھپنے سے پہلے اُس زمانہ میں جبکہ میرے والد صاحب فوت ہوئے تھے یہ پیشگوئی ان ہر دو آریوں کو بتلائی گئی تھی جس کا مختصر بیان یہ ہے کہ میرے والد صاحب کے فوت ہونے کی خبر ان الفاظ سے خدا تعالیٰ نے مجھے دی تھی کہ وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ یعنی قسم ہے آسمان کی اور قسم ہے اس حادثہ کی جو غروب آفتاب کے بعد پڑے گا اور ساتھ ہی سمجھایا گیا تھا کہ اس پیشگوئی کا مطلب یہ ہے کہ تمہارا والد آفتاب کے غروب کے ساتھ ہی وفات پائے گا۔ اور یہ الہام بطور ماتم پرسی کے تھا جو اپنے خاص بندوں سے عادت اللہ میں داخل ہے اور جب یہ خبر سن کر تردد اور غم پیدا ہوا کہ ان کی وفات کے بعد ہماری اکثر وجوہ معاش جوان کی ذات سے وابستہ ہیں نابود ہو جائیں گی تب یہ الہام ہوا أَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ یعنی کیا خدا اپنے بندہ کے لئے کافی نہیں ہے؟ اس وحی الہی میں صریحاً خبر دی گئی تھی کہ تمام حاجات کا خدا خود متکفل ہو گا چنانچہ اس الہام کے مطابق غروب آفتاب کے بعد میرے والد صاحب فوت ہو گئے اور ان کے ذریعہ سے ہمارے جو وجوہ معاش تھے جیسے پنشن اور انعام وغیرہ سب ضبط ہو گئے ۔ انہیں دنوں میں