تذکرة الشہادتین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 20 of 597

تذکرة الشہادتین — Page 20

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۰ تذكرة الشهادتين میں لکھا ہے کہ جب تک الیاس نبی دوبارہ دنیا میں نہ آوے تب تک وہ سچا مسیح جس کا بنی اسرائیل کو وعدہ دیا گیا ہے دنیا میں نہیں آوے گا تو پھر اس صورت میں یہود کا کیا قصور تھا جو اُنہوں نے حضرت مسیح کو قبول نہیں کیا اور اس کو کافر اور مرتد اور ملحد قرار دیا۔ کیا ان کی صحت نیت کے لئے یہ کافی نہیں ہے کہ کتاب اللہ کی نص کے موافق انہوں نے عملدرآمد کیا۔ ہاں اگر ملا کی نبی کے صحیفہ میں مثیل الیاس کے دوبارہ آنے کا ذکر ہوتا تو اس صورت میں یہود ملزم ہو سکتے تھے کیونکہ یہ امر زیادہ بحث کے لائق نہیں تھا کہ بیچی نبی کو مثیل الیاس قرار دیا جاوے۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ یہود خوب جانتے تھے کہ خدائے تعالی کی یہ عادت نہیں ہے کہ کوئی شخص دوبارہ دنیا میں آوے اور اس کی کوئی نظیر پہلے سے موجود نہیں تھی لہذا یہ صرف ایک استعارہ تھا جس طرح اور صد با استعارات خدائے تعالی کی کتابوں میں استعمال پاتے ہیں اور ایسے استعارات سے یہود بے خبر نہ تھے۔ پھر علاوہ اس کے حضرت عیسی علیہ السلام کے ساتھ تائیدات الہیہ بھی شامل تھیں اور فراست صحیحہ کے لئے کافی ذخیرہ تھا کہ یہودان کو شناخت کر لیتے اور ان پر ایمان لاتے مگر وہ دن بدن شرارت میں بڑھتے گئے اور وہ نور جو صادقوں میں ہوتا ہے وہ ضرور انہوں نے حضرت عیسی میں مشاہدہ (۱۸) کر لیا تھا مگر تعصب اور بخل اور شرارت نے ان کو نہ چھوڑا۔ لیکن یادر ہے کہ یہ سوال تو صرف یہود کے بارہ میں ہوتا ہے جن کو پہلے پہل یہ ابتلا پیش آیا تھا مگر مسلمان اگر تقویٰ کو اختیار کرتے تو قرآن شریف نے اس ابتلا سے اُن کو بچالیا تھا کیونکہ صاف لفظوں میں کہہ دیا تھا کہ عیسی فوت ہو گیا۔ اور نہ صرف یہی بلکہ سورہ مائدہ میں صاف طور پر سمجھا دیا تھا کہ وہ دوبارہ نہیں آئے گا کیونکہ آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي میں یہی ذکر ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ قیامت کو حضرت عیسی علیہ السلام سے پوچھے گا کہ کیا تو نے ہی کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو خدا کر کے ماننا تو حضرت عیسی جواب دیں گے کہ یا الہی اگر میں نے ایسا کہا ہے تو تجھے معلوم ہوگا کیونکہ تیرے علم سے کوئی چیز باہر نہیں۔ میں نے تو صرف وہی کہا تھا جو تو نے فرمایا تھا پھر جبکہ تو نے مجھے وفات دے دی تو پھر صرف تو ہی ان کا نگہبان تھا مجھے اُن کے حال کا کیا علم تھا۔ اب ظاہر ہے کہ اگر یہ بات بیچ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام قیامت سے پہلے دوبارہ دنیا میں آئیں گے اور چالیس برس دنیا میں ٹھہریں گے اور صلیب کو توڑیں گے اور عیسائیوں کے ساتھ لڑائیاں کریں گے تو وہ قیامت کو خدائے تعالیٰ کے حضور میں کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ جب تو نے مجھے وفات المائدة : ١١٨