سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 66 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 66

روحانی خزائن جلد ۲ ۵۴ سرمه چشم آرید کے عذاب سے نجات بخشے گا۔ ان دونوں بحثوں کے وقت یہ بات طے ہو چکی تھی کہ جواب الجواب کے جواب تک بحث ختم ہو۔ اُس سے پہلے نہ ہو۔ لیکن ہم افسوس سے لکھتے ہیں کہ ماسٹر صاحب نے شرائط قرار یا فتہ کو کچھ ملحوظ نہ رکھا۔ پہلے جلسہ میں جو گیاراں مارچ ۱۸۸۶ء کو بوقت شب ہوا تھا اُن کی طرف سے یہ نا انصافی ہوئی کہ جب جواب الجواب کے جواب کا وقت آیا جس کی تحریر کے لئے وہ آپ ہی فرما چکے تھے تو ماسٹر صاحب نے رات بڑی چلے جانے کا عذر پیش کیا۔ ہر چند اس عاجز اور اکثر حاضرین نے سمجھایا کہ اے ماسٹر صاحب ابھی رات کچھ ایسی بڑی نہیں گئی ہم سب پر رات کا برابر اثر ہے مگر اقرار کے برخلاف کرنا اچھی بات نہیں جواب ضرور تحریر ہونا چاہیے لیکن وہ کچھ بھی ملتفت نہ ہوئے آخر ہمواجہ تمام حاضرین کہا گیا کہ یہ جواب تحریر ہونے سے رہ نہیں سکتا۔ اگر آپ اس وقت اس کو ٹالنا چاہتے ہیں تو بالضرور اپنے طور پر رسالہ کے ساتھ شامل کیا جائے گا۔ چنانچہ انہوں نے طوعاً و کرہا بطور خود لکھا جانا تسلیم کیا پر اسی جلسہ میں وہ تحریر ہو کر پیش ہونا اُن کو بہت ناگوار معلوم ہوا جس کی وجہ سے وہ بلا تو قف اُٹھ کر چلے گئے بات یہ تھی کہ ماسٹر صاحب کو یہ فکر پڑی کہ اگر اسی وقت جواب الجواب کا جواب پیش ہوا تو خدا جانے مجھے کیا کیا ندامتیں اُٹھانی پڑیں گی غرض یہ جلسہ تو اس طور پر ختم ہوا اور اس کے تمام واقعات جو اِس مضمون میں مندرج ہیں اُن کی شہادت حاضرین جلسہ جن کے نام حاشیہ میں درج ہیں دے سکتے ہیں اب دوسرا جلسہ جو چودھویں مارچ ۴۸۶ ا حاشیه حاضرین جلسه بحث گیاراں مارچ کے نام یہ ہیں۔ میاں شتر گن صاحب پسر کلاں راجه رو در سین صاحب والی ریاست سوکیت حال وارد ہوشیار پور ۔ میاں شتر نجمی صاحب پسر خورد راجہ صاحب موصوف ۔ میاں جنمیں جی صاحب پسر تر خورد راجہ صاحب۔ بابو