سُرمہ چشم آریہ — Page 65
روحانی خزائن جلد ۲ ۵۳ سرمه چشم آرید ایک اعلیٰ درجہ کے رکن اور مدارالمہام ہیں مباحثہ مذہبی کا اتفاق ہوا ۔ وجہ اس کی یہ ہوئی کہ (۵) ماسٹر صاحب موصوف نے خود آ کر درخواست کی کہ تعلیم اسلام پر میرے چندسوالات ہیں اور چاہتا ہوں کہ پیش کروں ۔ چونکہ یہ عاجز ایک زمانہ دراز کی تحقیق اور تدقیق کے رُو سے خوب جانتا ہے کہ عقائد حقہ اسلام پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہو سکتا اور جس کسی بات کو کوئی کونه اندیش مخالف اعتراض کی صورت میں دیکھتا ہے وہ در حقیقت ایک بھاری درجہ کی صداقت اور ایک عالی مرتبہ کی حکمت ہوتی ہے جو اس کی نظر بیمار سے چھپی رہتی ہے اس لئے با وجود شدت کم فرصتی میں نے مناسب سمجھا کہ ماسٹر صاحب کو اُن کے اعتراضات کی حقیقت ظاہر کرنے کے لئے مدددوں اور بطور نمونہ ان کو دکھلاؤں کہ وید اور قرآن شریف میں سے کونسی کتاب اللہ تعالیٰ کی عظمت اور قدرت اور شوکت اور شان کے مطابق ہے اور کس کتاب پر بچے اور واقعی اعتراضات وارد ہوتے ہیں ۔سواس غرض سے ماسٹر صاحب کو کہا گیا کہ اگر آپ کو مذہبی بحث کا کچھ شوق ہے تو ہمیں بسر و چشم منظور ہے لیکن مناسب ہے کہ دونوں فریق کے اصول کی حقیقت کھولنے کی غرض سے ہر دو فریق کی طرف سے سوالات پیش ہوں تا کوئی شخص جو ان سوالات و جوابات کو پڑھے اس کو دونوں مذہبوں کے جانچنے اور پر کھنے کے لئے موقعہ مل سکے چنانچہ بمنظوری جانبین اسی التزام سے بحث شروع ہوئی ۔ اول گیاراں مارچ ۱۸۸۶ء کی رات میں اس عاجز کے مکان فرودگاہ پر ماسٹر صاحب کی طرف سے ایک تحریری اعتراض شق القمر کے بارہ میں پیش ہوا اور پھر چودھویں مارچ ۱۸۸۶ء کے دن میں اس عاجز کی طرف سے آریہ صاحبوں کے اس اصول پر اعتراض پیش ہوا کہ پر میٹر نے کوئی روح پیدا نہیں کی اور نہ وہ کسی روح کو خواہ کوئی کیسا ہی راست باز اور وفادار اور سچا پرستار ہو ہمیشہ کے لئے جنم مرن