سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 328 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 328

روحانی خزائن جلد ۲ اس کے جواب میں صرف لـعـنـت الـلـه علـى الكاذبين کہنا کافی سمجھتے ہیں لیکن ساتھ ہی ہم سرمه چشم آرید سادہ لوح لوگوں کو سناتے ہیں اور نیز اپنی طرف کے لئے نو برس کی میعاد لکھی گئی ہے اور اشتہار سے اشتہارات شائع کرتے ہیں تا دھوکا دے کر ان ۱/۸ اپریل ۱۸۸۶ء میں کسی برس یا مہینے کا ذکر نہیں کے یہ ذہن نشین کریں کہ جو لڑکا پیدا ہونے کی اور نہ اس میں یہ ذکر ہے کہ جونو برس کی میعاد رکھی پیشگوئی تھی اس کا وقت گزر گیا اور وہ نامہ نکلی۔ ہم گئی تھی اب وہ منسوخ ہوگئی ہے ہاں اس اشتہار غلط میں ایک یہ فقرہ ڈ والوجوہ درج ہے کہ مدت حمل سے تجاوز نہیں کر سکتا ۔ مگر کیا اسی قدر فقرہ سے یہ ثابت ہو گیا کہ مدت حمل سے ایام باقی ماندہ افسوس بھی کرتے ہیں کہ ان بے عزتوں اور حمل موجودہ مراد ہیں کوئی اور مدت مراد نہیں اگر دیونوں کو باعث سخت درجہ کے کینہ اور بخل اور اس فقرہ کے سر پر اس کا لفظ ہوتا تو بھی اعتراض تعصب کے اب کسی کی لعنت ملامت کا بھی کچھ کرنے کے لئے کچھ گنجائش نکل سکتی مگر جب خوف اور اندیشہ نہیں رہا اور جو شرم اور حیا اور خدا الہامی عبارت کے سر پر اس کا لفظ ( جو مخصص ترسی لازمہ انسانیت ہے وہ سب نیک خصلتیں وقت ہو سکتا ہے ) وارد نہیں تو پھر خواہ نخواہ اس ایسی ان کی سرشت سے اٹھ گئی ہیں کہ گویا خدائے فقرہ سے وہ معنی نکالنا جو اس صورت میں نکالے تعالیٰ نے ان میں وہ پیدا ہی نہیں کیں اور جیسے جاتے جو اس کا لفظ فقرہ مذکور کے سر پر ہوتا اگر ایک بیمارا اپنی صحت یابی سے نو امید ہو کر اور صرف بے ایمانی اور بددیانتی نہیں تو اور کیا ہے ۔ دانشمند آدمی جس کی عقل اور فہم میں کچھ آفت نہیں اور چند روز زندگی سمجھ کر سب پر ہیزیں توڑ دیتا ہے جس کے دل پر کسی تعصب یا شرارت کا حجاب اور جو چاہتا ہے کھا پی لیتا ہے اسی طرح انہوں نے نہیں وہ سمجھ سکتا ہے کہ کسی ذوالوجوہ فقرہ بھی اپنی مرض کینہ اور تعصب اور دشنی کو ایک آزار کے معنی کرنے کے وقت وہ سب لا علاج خیال کر کے دل کھول کر بد پر ہیزیاں اور احتمالات مد نظر رکھنے چاہیے جو اس فقرہ بے راہیاں شروع کی ہیں جن کا انجام بخیر نہیں۔ سے پیدا ہو سکتے ہیں ۔ سو فقرہ مذکورہ بالا تعصب اور کینہ کے سخت جنون نے کیسی ان کی یعنی یہ کہ مدت حمل سے تجاوز نہیں کر سکتا ۔ عقل مار دی ہے نہیں دیکھتے کہ اشتہا ر ۲۲ / مارچ ایک ذ والوجوہ فقرہ ہے جس کی ٹھیک ٹھیک ۱۸۸۶ء میں صاف صاف تولد فرزند موصوف وہی تشریح ہے جو میر عباس علی شاہ