سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 327 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 327

روحانی خزائن جلد ۲ ۳۱۵ سرمه چشم آرید بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم اشتہار محک اخیار واشرار ہم نے الفت میں تری بار ا ٹھایا کیا کیا تجھ کو دکھلا کے فلک نے ہے دکھایا کیا کیا ہر ایک مومن اور پاک باطن اپنے ذاتی تجربہ سے اگر ہم بھی خویش و بیگانہ سے کچھ آزار اٹھائیں اس بات کا گواہ ہے کہ جو لوگ صدق دل سے تو ہمیں شکر بجالا نا چاہیے اور خوش ہونا چاہیے اپنے مولی کریم جل شانہ سے کامل وفاداری کہ ہم اس محبوب حقیقی کی نظر میں اس لائق تو اختیار کرتے ہیں وہ اپنے ایمان اور صبر کے ٹھہرے کہ اس کی راہ میں دکھ دئیے جائیں اور اندازہ پر مصیبتوں میں ڈالے جاتے ہیں اور سخت ستائے جائیں سو اس طرح پر دکھ اٹھانا تو سخت آزمائشوں میں مبتلا ہوتے ہیں ان کو ہماری عین سعادت ہے لیکن جب ہم دوسری بلد باطن لوگوں سے بہت کچھ نجدہ باتیں سنی پڑتی طرف دیکھتے ہیں کہ بعض دشمنان دین اپنی ہیں اور انواع اقسام کے مصائب و شدائد کو اٹھانا افترا پردازی سے صرف ہماری ایذا رسانی پر پڑتا ہے اور نا اہل لوگ طرح طرح کے منصوبے کفایت نہیں کرتے بلکہ بے تمیز اور بے خبر اور رنگارنگ کے بہتان ان کے حق میں باندھتے لوگوں کو فتنہ میں ڈالتے ہیں تو اس صورت میں ہیں اور ان کے نابود کرنے کی فکر میں لگے رہتے ہم اپنے نفس پر واجب سمجھتے ہیں کہ حتی الوسع ہیں یہی عادت اللہ ان لوگوں سے جاری ہے جن ان ناواقف لوگوں کو فتنہ سے بچاویں۔ پر اس کی نظر عنایت ہے غرض جو اس کی نگاہ میں سو واضح ہو کہ بعض مخالف ناخدا ترس جن کے دلوں راست باز اور صادق ہیں وہ ہمیشہ جاہلوں کی کو زنگ تعصب و بخل نے سیاہ کر رکھا ہے ہمارے زبان اور ہاتھ سے تکلیفیں اٹھاتے چلے آئے اشتہار مطبوعہ ۱۸ اپریل ۱۸۸۶ء کو یہودیوں کی طرح ہیں سو چونکہ سنت اللہ قدیم سے یہی ہے اس لئے محرف و مبدل کر کے اور کچھ کے کچھ معنے بنا کر (۲)