سُرمہ چشم آریہ — Page 324
روحانی خزائن جلد ۲ ۳۱۲ سرمه چشم آرید پھر دیکھنا چاہیے کہ ان کا جوش و خروش کہاں ہے ۔ ماسوا اس کے ان لوگوں کی ذاتی علمیت اور دماغی روشنی بھی بہت کم ہوتی ہے اور یورپ کے ملکوں میں جو واقعی دانا اور فلاسفر اور دقیق النظر ہیں وہ پادری کہلانے سے کراہت اور عار رکھتے ہیں اور ان کو ان کے بیہودہ خیالات پر اعتقاد بھی نہیں بلکہ یورپ کے عالی دماغ حکما کی نگاہوں میں پادری کا لفظ ایسا خفیف اور دور از فضیلت سمجھا جاتا ہے کہ گویا اس لفظ سے یہ مفہوم لازم پڑا ہوا ہے کہ جب کسی کو پادری کر کے پکارا جاوے تو ساتھ ہی دل میں یہ بھی گزر جاتا ہے کہ یہ شخص اعلیٰ درجہ کی علمی تحصیلوں اور لیاقتوں اور باریک خیالات سے بے نصیب ہے اور جس قدر ان پادری صاحبان نے اہل اسلام پر مختلف قسم کے اعتراضات کر کے اور بار بار ٹھوکریں کھا کر اپنے خیالات میں پلٹے کھائے ہیں اور طرح طرح کی ندامتیں اٹھا کر پھر اپنے اقوال سے رجوع کیا ہے۔ یہ بات اس شخص کو بخوبی معلوم ہوگی کہ جو ان کے اور فضلاء اسلام کے باہمی مباحثات کی کتابوں پر ایک محیط نظر ڈالے ۔ ان کے اعتراضات تین قسم سے باہر نہیں ۔ یا تو ایسے ہیں کہ جو سراسر افترا اور بہتان ہے جن کی اصلیت کسی جگہ پائی نہیں جاتی اور یا ایسے ہیں کہ فی الحقیقة وہ باتیں ثابت تو ہیں لیکن محل اعتراض نہیں محض سادہ لوحی اور کور باطنی اور قلت تدبر کی وجہ سے ان کو جائے اعتراض سمجھ لیا ہے اور یا بعض ایسے امور ہیں کہ کسی قدر تو سچ ہیں جو ایک ذرہ جائے اعتراضات نہیں ہو سکتے اور باقی سب بہتان اور افترا ہیں جو ان کے ساتھ ملائے گئے ہیں۔ اب افسوس تو یہ ہے کہ آریوں نے اپنے گھر کی عقل کو بالکل استعفا دے کر ان کی ان تمام دور از صداقت کا رروائیوں کو سچ مچ صحیح اور درست سمجھ لیا ہے اور بعض آر یہ ایسے بھی ہیں کہ وہ قرآن شریف کا ترجمہ کسی جگہ سے ادھورا سا دیکھ کر یا کوئی قصہ