سُرمہ چشم آریہ — Page 323
روحانی خزائن جلد ۲ ۳۱۱ سرمه چشم آرید اشتهار مفيد الاخيار جا گوجا گوآر یونیند نہ کرو پیار چونکہ آج کل اکثر ہندوؤں اور آریوں کی یہ عادت ہو رہی ہے کہ وہ کچھ کچھ کتابیں عیسائیوں کی جو اسلام کی نکتہ چینی میں لکھی گئی ہیں دیکھ کر اور ان پر پورا پورا اطمینان کر کے اپنے دلوں میں خیال کر لیتے ہیں کہ حقیقت میں یہ اعتراضات درست اور واقعی ہیں ۔ اس لئے قرین مصلحت سمجھ کر اس عام اشتہار کے ذریعہ سے اطلاع دی جاتی ہے کہ اول تو عیسائیوں کی کتابوں پر اعتماد کر لینا اور براہ راست کسی فاضل اہل اسلام سے اپنی عقدہ کشائی نہ کرانا اور اپنے اوہام فاسدہ کا متفقین اسلام سے علاج طلب نہ کرنا اور خائنین عناد پیشہ کو امین سمجھ بیٹھنا سراسر بے راہی ہے جس سے طالب حق کو پر ہیز کرنا چاہیے ۔ دانشمند لوگ خوب جانتے ہیں کہ یہ جو پادری صاحبان پنجاب اور ہندوستان میں آ کر اپنے مذہب کی تائید میں دن رات ہزارہا منصو بے باندھ رہے ہیں یہ ان کے ایمانی جوش کا تقاضا نہیں بلکہ انواع اقسام کے اغراض نفسانی ان کو ایسے کاموں پر آمادہ کرتے ہیں اگر وہ انتظام مذہبی جس کے باعث سے یہ لوگ ہزار ہا روپیہ تنخواہیں پاتے ہیں درمیان سے اٹھایا جاوے تو