سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 310 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 310

روحانی خزائن جلد ۲ ۲۹۸ سرمه چشم آریہ ۲۳۸ حالت میں اس کو ملے گا۔ شرط یہی ہے کہ وہ ویدوں کو پڑھ سکتا ہو تا ہمارے وقت کو ناحق ضائع نہ کرے۔ جانا چاہیے کہ جو شخص حق سے اپنے تئیں آپ دور لے جاوے اس کو ملعون کہتے ہیں اور جو حق کے حاصل کرنے میں اپنے نفس کی آپ مدد کرے اس کو مقرون کہتے ہیں۔ اب بقيه حاشیه ہوتے ہیں اور حرکت شوقیہ میں تیزی اور گرمی ہوتی ہے اور وفا اور صدق میں قیام اور استحکام ہوتا ہے اسی قدر اس کی وحی میں کمال ہوتا ہے۔ اب ہماری طرف سے یہ دعوی ہے جس کو ہم بمقابل ہر یک فریق کے ثابت کرنے کو طیار ہیں کہ وحی قرآنی اپنی تعلیم اور اپنے معارف اور برکات اور علوم میں ہر یک وحی سے اقومی و اعلیٰ ہے اور اس کے اثبات میں کسی قدر ہم کتاب براہین میں لکھ بھی چکے ہیں اور اکثر حصہ اس کتاب کا جو انشاء اللہ رسالہ سراج منیر کے بعد چھپنا شروع ہوگا انہیں ثبوتوں سے بھرا ہوا ہے۔ اور ہم نے اپنی کتاب براہین میں جس کے ساتھ دس ہزار روپیہ کا اشتہار ہے نہایت معقول اور مدلل طور پر ثابت کر دیا ہے کہ فی الحقیقت قرآن شریف اپنے معارف اور حکمتوں اور پُر برکت تأشیروں اور بلاغتوں میں اس حد تک پہنچا ہوا ہے جس تک پہنچنے سے انسانی طاقتیں عاجز ہیں اور جس کا مقابلہ کوئی بشر نہیں کر سکتا اور نہ کوئی دوسری کتاب بقیه حاشیه کے زاویہ قوط ہر ایک قائمہ ہے ۔ اس لئے ( بحکم ۴۷ ش م ( مربع ع ل برا بر ہوا مربع ل ق اور ل ق اور ق ع کے اور مربع ع م کا برا بر ہے مربع حاشیه ع ط اور ط م کے ۔ چونکہ ( بحکم ۱۵ حدم (۱) خط مستقیم ع ل برابر ہے ع م کے اس لئے مربع