سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 309 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 309

روحانی خزائن جلد ۲ ۲۹۷ سرمه چشم آرید اور جس امر میں امور دینیہ میں سے چاہے اطلاع دے تو ہم ایک رساله بالتزام آیات بینات (۲۲۷) و دلائل عقلیه قرآنی تالیف کر کے اس غرض سے شائع کر دیں گے کہ تا اسی التزام سے دید کے معارف اور اس کی فلاسفی دکھلائی جائے اور اس تکلیف کشی کے عوض میں ایسے وید خوان کے لئے ہم کسی قدر انعام بھی کسی ثالث کے پاس جمع کرادیں گے جو غالب ہونے کی بقيه حاشیه اس بات کو ثابت کرنے والا ہے کہ نقطہ مرکز تمام نقاط وتر قوسین کی نسبت جو ۲۴۷ ترقیات انسانیہ کے انتہائی نشان ہیں ارفع و اعلیٰ ہے پس اس سے بالضرورت ماننا پڑتا ہے کہ جس قدر مختلف استعداد میں قوس بشریت میں داخل ہیں ان میں سے صرف ایک ہی ایسی استعداد ہے جو سب استعدادات کی نسبت بلند تر و کامل تر ہے۔ اور ثبوت اس بات کا جو صاحب اس استعداد کامل کا اصلی و حقیقی طور پر جناب سیدنا و مولانا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ان پیشگوئیوں سے ہو سکتا ہے جن میں سے بعض کو ہم نے اسی حاشیہ میں لکھ دیا ہے اور نیز ایک عمدہ ثبوت اس بات کا قرآن شریف سے بھی مل سکتا ہے کیونکہ کمالیت وحی حسب کمالیت مورد وحی ہوا کرتی ہے جس قدر کسی مورد وحی کی استعداد بلند ہوتی ہے ۔ جو ہر فطرت مصفا ہوتا ہے ۔ جذبات محبت نمایاں بقیه حاشیہ محاذ ہی کھینچا ہوا ہے اب ہم ثابت کریں گے کہ ان خطوط میں سب سے بڑا (ع در حاشیه ہو گا جو مرکز تک کھینچا ہوا ہے ۔ ملاؤ ع ل و ع م و ع ن بموجب فرض کے زاویہ ق قائمہ ہے تو ( بحکم ۳۲ ش م ) زاویہ ل ع ق حادہ ہوا اس لئے ( بحکم وا ش م ) کے ضلع ل ع بڑا ہوا ضلع ل ق سے اور بموجب فرض