سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 288 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 288

روحانی خزائن جلد ۲ ۲۷۶ سرمه چشم آرید (۲۸) کی وجہ سے معجزہ شق القمر سے انکار کرنا ایسا امر نہیں ہے کہ جس سے اسلام کے ایک بال کو بھی ضرر پہنچ سکے جب معجزات موجودہ قرآنیہ کا مخالفین سے رد نہیں ہو سکتا تو موجود کو چھوڑ کر ان معجزات کی بحث چھیڑ نا جواب آنکھوں کے سامنے نہیں ہیں سراسر بے راہی ہے۔ ماسوا اس کے جس قدر ہم نے مقدمہ میں قانون قدرت کی تحقیقات میں لکھا ہے اس کے پڑھنے سے ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ شق قمر کا استبعاد عقلی در حقیقت ایسا نہیں ہے جیسا کہ نادان نیم حکیم خیال کرتے ہیں ابھی تک کسی عقل نے خواص قمری و شمسی پر احاطہ نہیں کیا اور نہ یہ ثابت کیا کہ خدائے تعالیٰ ان چیزوں کو بنا کر بکلی بے تعلق ہو گیا ہے اور اب یہ چیزیں اس سے باغی ہیں بلکہ خدائے تعالیٰ کے دونوں ہاتھ محو اور اثبات کے ابدی طور پر کھلے ہیں اور اپنی بے انتہا اور نا پیدا کنار قدرتوں سے جو چاہتا ہے کرتا ہے اور ظاہر ہے کہ عدم علم سے اور ان کے ہاتھ کو اپنا ہاتھ قرار دیا۔ یہ کلمہ مقام جمع میں ہے جو بوجہ نہایت قرب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں بولا گیا ہے اور اسی مرتبہ جمع کی طرف جو محبت تامہ دو طرفہ پر موقوف ہے اس آیت میں بھی اشارہ ہے۔ مَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ رَلی لے تو نے نہیں چلایا خدا نے ہی چلایا جب کہ تو نے چلا یا ایسا ہی یہ اشارہ اس دوسری آیت میں پایا جاتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ قُلْ يُعِبَادِيَ الَّذِيْنَ أَسْرَفُوا عَلَى نفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ل یعنی ان کو کہہ دے کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر اسراف کیا (یعنی ارتکاب کبائر کیا ) تم خدا کی رحمت سے نومیدمت ہو وہ تمہارے سب گناہ بخش دے گا۔ اب ظاہر ہے کہ بنی آدم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تو بندے نہیں ہیں بلکہ سب نبی و غیر نبی خدائے تعالی کے بندے ہیں لیکن چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے مولیٰ کریم سے قرب اتم یعنی تیسرے درجہ کا ۲۲۸ بقيه حاشیه الانفال: ۱۸ الزمر :۵۴