سُرمہ چشم آریہ — Page 287
روحانی خزائن جلد ۲ ۲۷۵ سرمه چشم آرید کی مدد بھی کریں۔ اور جو کچھ قرآن شریف کے ذاتی معجزات اس جگہ ہم نے تحریر کئے ہیں۔ ۲۲۷ اگر کسی آریہ وغیرہ کو اپنے دل میں کچھ گھمنڈ یا سر میں کچھ غرور ہو اور خیال ہو کہ یہ معجز نہیں ہے بلکہ وید یا اس کی کوئی اور کتاب جس کو وہ الہامی سمجھتا ہے اس کا مقابلہ کر سکتی ہے تو اسے اختیار ہے کہ آزما کر دیکھ لے اور ہم وعدہ کرتے ہیں کہ اگر کوئی مخالف ممتاز اور ذی علم لوگوں میں سے ان معجزات قرآنیہ میں سے کسی معجزہ کا انکاری ہو اور اپنی کتاب الہامی میں زور مقابلہ خیال کرتا ہو تو ہم حسب فرمائش اس کے کوئی قسم اقسام معجزات ذاتیہ قرآن شریف میں سے تحریر کر کے کوئی مستقل رسالہ شائع کر دیں گے پھر اگر اس کی الہامی کتاب قرآن شریف کا مقابلہ کر سکے تو اسے حق پہنچتا ہے کہ تمام معجزات قرآنی سے منکر ہو جائے اور جو شرط قرار دی جائے ہم سے پوری کر لے ورنہ صرف عناد اور کور باطنی بقيه حاشیه الفتح : اا نا پیدا کنار دریا میں جاپڑا اور الوہیت کے بحر اعظم میں ذرہ بشریت کم ہو گیا۔ اور یہ (۲۲۷) بڑھنا نہ مستحدث اور جدید طور پر بلکہ وہ ازل سے بڑھا ہوا تھا اور ظلمی اور مستعار طور پر اس بات کے لائق تھا کہ آسمانی صحیفے اور الہامی تحریر میں اس کو مظہر اتم الوہیت قرار دیں اور آئینہ حق نما اس کو ٹھہر اویں پھر دوسری آیت قرآن شریف کی جس میں یہی تشبیہ نہایت اصفی واجلی طور پر دی گئی ہے یہ ہے۔ اِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ ' یعنی جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ خدا سے بیعت کرتے ہیں۔ خدا کا ہاتھ ہے جو ان کے ہاتھوں پر ہے۔ واضح ہو کہ جولوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرتے تھے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر بیعت کیا کرتے تھے اور مردوں کے لئے یہی طریق بیعت کا ہے سو اس جگہ اللہ تعالیٰ نے بطریق مجاز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات کو اپنی ذات اقدس ہی قرار دے دیا