سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 272 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 272

روحانی خزائن جلد ۲ ۲۶۰ سرمه چشم آریہ ۲۱۲ ہتک عزت نہیں ہو سکتا کیونکہ اجتماع نقیضین محال وممتنع ہے برخلاف اس کے جو چیزیں خدا تعالیٰ کے ماتحت وزیر حکم ہیں ان کو اس کے ماتحت قبول کر کے پھر اس کی حدود قدرت سے انہیں باہر رکھ لینا اور با وصف صدہا عجائب و غرائب خواص کے جو ان बलात چیزوں کے اندر بھرے ہوئے ہیں جو ایک ناکارہ کام جوڑ نے جاڑنے سے ہزا رہا مراتب بہتر ہیں پھر بھی ان چیزوں کو خدائے تعالیٰ کی پیدائش اور ان کے ہاتھ کی صنعت ہونے سے الگ کا الگ رہنے دینا اور پر میشر کو صرف جوڑ نے جاڑنے والا جو اس کے پہلے کاموں سے قطع تعلق کی حالت میں ادنی سا کام ہے خیال کرنا اگر ایسے خیال پر اختلال سے بھی آپ کے پرمیشر کی عزت دور نہیں ہوتی تو یہ عزت بھی عجیب عزت ہے غرض یہ قیاس آپ کا بالکل قیاس مع الفارق ہے جو خدائے تعالی کی ماتحت چیزوں کا اس کی ذات وصفات پر آپ کر رہے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ آپ اس صاف صاف فرق کو سمجھ کر بہت شرمندہ ہوں گے اور دل میں پچھتائیں گے کہ ایسی فضول باتیں منہ سے کیوں نکالیں۔ بالآخر میں آپ کو یہ بھی یاد دلاتا ہوں کہ آپ ایک روحانی نسبت محسوس ہوتی ہے ایسا ہی اس کو بھی ہر وقت باطنی طور پر اس نسبت کا احساس ہوتا رہتا ہے اور جیسے بیٹا اپنے باپ کا خلیہ اور نقوش نمایاں طور پر اپنے چہرہ پر ظاہر رکھتا ہے اور اس کی رفتار اور کردار اور خواور بو بصفائی نام اس میں پائی جاتی ہے علی ھذا القیاس یہی حال اس میں ہوتا ہے اور اس درجہ اور قرب اول کے درجہ میں فرق یہ ہے کہ قرب اول کا درجہ جو خادم اور مخدوم سے تشبیہہ رکھتا ہے وہ بھی اگر چہ اپنے کمال کے رو سے اس درجہ ثانیہ سے نہایت مشابہ ہے لیکن یہ درجہ اپنی نہایت صفائی کی وجہ سے تعلق مادر زاد کے قائم مقام ہو گیا ہے اور جیسا باعتبار نفس انسانیت کے دو انسان مساوی ہوتے ہیں لیکن بلحاظ شدت و ضعف خواص انسانی کے ظہور آثار میں متفاوت واقع ہوتی ہیں ایسا ہی بقيه حاشیه