سُرمہ چشم آریہ — Page 271
روحانی خزائن جلد ۲ ۲۵۹ سرمه چشم آریہ خدا کے اپنے کاموں سے بڑھ کر ہے اور اس سے خدا کی کوئی ہتک عزت نہیں ہوتی۔ سوالیسا (۲۱) ہی دوسری خود بخود ہونے والی چیزوں سے اس کی کوئی بہتک عزت نہیں ۔ اب ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ اس جواب کو ہمارے اعتراض سے کیا تعلق ہے۔ یہ بات نہایت ظاہر و بدیہی ہے کہ اگر خدائے تعالیٰ کی ذات و صفات اس کے کاموں سے جو اس کی مخلوقات ہے بڑھ کر نہ ہوتی تو مخلوق اپنے خالق سے اور مملوک اپنے مالک سے مساوی ہو جاتا تو اس طرح پر ضرور خدائے تعالیٰ کی بہتک عزت ہوتی کیونکہ مخلوق کا اپنے خالق سے برابر ہو جانا اور مملوک کا اپنے مالک سے ہم درجہ ہونا صریح موجب ہتک عزت مالک ہے اور یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے جیسا خدا پیدا نہیں کرتا کہ یہ اس کی عزت ابدی و جلال از لی اور وحدت قدیمی کے برخلاف ہے اب جب کہ یہ ثابت ہے کہ خدائے تعالیٰ کی ہتک عزت اس بات میں ہے کہ کوئی مخلوق و مملوک ہو کر اس کی ذات وصفات کے برابر ہو تو ظاہر ہے کہ جو امر اس کا نقیض ہے یعنی یہ کہ مخلوق اپنی ذات وصفات میں اپنے خالق سے کم ہو یہ امر موجب بقيه حاشیه البقرة :٢٠١ ۲۱۱ تشبہ سے مناسبت رکھتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ۔ فَاذْكُرُوا الله ) گذكْرِكُمْ أَبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا لے یعنی اپنے اللہ جل شانہ کو ایسے د لی جوش محبت سے یاد کرو جیسا باپوں کو یاد کیا جاتا ہے۔ یا د رکھنا چاہیے کہ مخدوم اس وقت باپ سے مشابہ ہو جاتا ہے جب محبت میں غائت درجہ شدت واقع ہو جاتی ہے اور حب جو ہر یک کدورت اور غرض سے مصفا ہے دل کے تمام پر دے چیر کر دل کی جڑھ میں اس طرح سے بیٹھ جاتی ہے کہ گویا اس کی جز ہے تب جس قدر جوش محبت اور پیوند شدید اپنے محبوب سے ہے وہ سب حقیقت میں مادر زاد معلوم ہوتا ہے اور ایسا طبیعت سے ہمرنگ اور اس کی جز ہو جاتا ہے کہ سعی اور کوشش کا ذریعہ ہرگز یاد نہیں رہتا اور جیسے بیٹے کو اپنے باپ کا وجود تصور کرنے سے