سُرمہ چشم آریہ — Page 218
روحانی خزائن جلد ۲ ۲۰۶ سرمه چشم آرید ۱۵۸ طور پر خود بخود ہورہا ہے سو یہی نمونہ کے لئے کافی ہے ) اس کا جواب یہ ہے کہ گو پر میشر کو جوڑتے جاڑتے کسی نے نہیں دیکھا مگر اتفاقی طور پر ملنے والی چیزوں میں انتظام اور کاریگری اور تعلقات ضرور یہ نہیں ہوا کرتے جواب موجود ہیں لہذا ثابت ہے کہ ان چیزوں کا جوڑے جانا خود بخود نہیں بلکہ ان کا جوڑ نے جاڑنے والا بڑا انتظم کامل قدرت والا ہے۔ اقول ۔ ماسٹر صاحب آپ دہر یہ یعنی خدائے تعالی کے منکروں سے کیوں جھگڑالے بیٹھے در حقیقت آپ لوگ تو تمام ارواح اور اجسام کے ذرہ ذرہ کی نسبت یہی مانتے ہیں کہ ان کا وجود اتفاقی طور سے ہے یہ نہیں کہ کسی وقت پر میشر نے ان کو پیدا کیا ہے سو جبکہ آپ نے روحوں اور اجسام کے ذرہ ذرہ کا ہونا خود ہی اتفاقی طور سے مان لیا تو پھر آپ تو دہریوں کے ایسے مددگار ہوئے جن کا انہیں شکر کرنا چاہیے تو پھر ان سے جھگڑا کرنے کا کیا موجب اور بحث مباحثہ کی کیا وجہ؟ یا ر صادق اور دوست موافق سے بھی کوئی لڑتا جھگڑتا ہے؟ کسی کتاب میں لکھا ہے کہ ایک شخص ایک جگہ سے زنا کر کے یا شراب پی کر نکلا اور نکلتے ہی اس نے شیطان پر لعنت بھیجی شیطان بھی اس وقت پاس کھڑا تھا اس نے بہت محبت اور نرمی کی راہ سے کہا کہ اے بھائی تو در پردہ بکی میرے موافق اور میرا مددگار اور فرمانبردار اور میری مرضی کے موافق کام کرنے والا ہے تو پھر کیا وجہ کہ بظاہر میرے پر لعنت بھیجتا ہے اور مجھ سے ناراض ہوتا ہے۔ اسی طرح آریہ سماج والوں کی حالت ہے کہ در حقیقت وہ لوگ دہر یہ مذہب پھیلانے کے لئے بڑی کوشش کر رہے ہیں اور ان کوششوں کے لحاظ سے دہریوں کے بڑے لائق خدمت گزار انہیں سمجھنا چاہیے لیکن بظاہر دہریوں سے ناراض ہیں یہ نا راضگی اس قسم کی ہے جو ہم نے مثال مذکورہ بالا میں بیان کی ہے بھلا جس حالت میں جو بات دہریوں کے عین مدعا اور مراد تھی یعنی کوئی چیز خدا کی پیدا کردہ نہیں سب چیزیں خدا کی طرح قدیم اور غیر مخلوق ہیں وہ بات تو ان لوگوں نے آپ ہی مان لی اور اپنے مذہب کی