سُرمہ چشم آریہ — Page 183
روحانی خزائن جلد ۲ 121 سرمه چشم آرید ہو پس اگر اب بھی ماسٹر صاحب کنارہ کر گئے تو کیا یہ اس بات پر دلیل کافی نہیں ہوگی کہ (۱۲۳) ان کا وید ان کمالات اور خوبیوں اور پاک سچائیوں سے بکلی عاری اور خالی ہے۔ قوله - مرزا صاحب اور سب اہل اسلام کا یہی اعتقاد ہے اور قرآن میں آیا ہے کہ جب آنحضرت ( محمد صاحب) سے لوگوں نے پوچھا کہ روح کیا چیز ہے تو آپ کچھ نہ بتلا سکے اور اس وقت آیت نازل ہوئی کہ اے محمد کہہ دے کہ روح ایک امر رتی ہے سو مسلمانوں نے تو روح کو کیا سمجھا ہو گا خدا نے ان کے ہادی پر بھی روح کی کیفیت ظاہر نہیں کی اور خدا کا بھی کیا جواب عمدہ ہے کہ روح امر ربی ہے کیا اور چیزیں امر ربی نہیں ۔ اقول اس وقت ماسٹر صاحب کی خوبی فہم اور جلد بازی کا تصور کر کے مجھے ایک حکایت یاد آگئی ہے کہ ایک ایسا شخص کسی شہر میں تھا جو ہمیشہ چپ رہا کرتا تھا آخر اس کی خاموشی سے لوگ اس وہم میں پڑ گئے کہ یہ کوئی بڑا فاضل اور دانشمند ہوگا۔ اسی خیال سے ایک جماعت کثیر اس کی خدمت میں حاضر رہنے لگی۔ ایک دن اس شخص نے اپنے دل میں سوچا کہ مجھے اپنی عظمندی ظاہر کرنے کے لئے کچھ بولنا چاہیے سو جب اس نے دو چار باتیں ہی مونہہ سے نکالیں تو تمام لوگ سمجھ گئے کہ اگر اس شہر میں کوئی اور نادان بھی ہے تو اس سے بڑھ کر کبھی نہ ہوگا۔ تب اس کے ارد گرد سے سب بھاگ گئے اور ساری جماعت متفرق ہوگئی اور وہ اکیلا رہ کر بہت دردمند ہوا۔ بڑی مصیبت سے ایک رات کاٹی صبح ہوتے ہی اس شہر سے کہیں کو چلا گیا اور جاتے وقت ایک دیوار پر لکھ گیا کہ اگر میں پہلے اپنی شکل کو آئینہ میں دیکھ لیتا تو نادانی سے اپنا پردہ فاش نہ کرتا۔ اسی طرح ماسٹر صاحب نے بھی اچھا نہیں کیا کہ لاعلمی اور نا واقفیت اور نا سمجھی کی حالت میں اعتراض کرنے کے لئے زبان کھولی۔ لالہ صاحب میں آپ کی غلطیوں کی کہاں تک اصلاح کرتا جاؤں آپ نے یہ کس سے سن لیا کہ مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خدائے تعالیٰ کی طرف سے علم روح نہیں دیا گیا تھا اور آپ نے