سُرمہ چشم آریہ — Page 182
روحانی خزائن جلد ۲ 16• سرمه چشم آرید ۲۲ بقدر کفایت بیان کر دی ہے اگر ماسٹر صاحب کا وید بھی کچھ علم الہی سے حصہ رکھتا ہے تو انہیں لازم ہے کہ اس وقت بمقابلہ قرآن شریف کے وید کے وہ دلائل عقلیہ پیش کریں جن کی رو سے غیر مخلوق اور غیر محدث ہونا روحوں کا ثابت ہوتا ہے بلکہ اس جگہ ہم مکرر گزارش کرنا چاہتے ہیں کہ بہتر یوں ہے کہ ماسٹر صاحب بغرض مقابله و موازنه فلسفه وید و قرآن شریف ہم کو اجازت دیں کہ تاہم ایک علیحدہ رسالہ روحوں کی مخلوقیت اور ان کی خواص اور قوتوں اور طاقتوں کے بارے میں اور دیگر نکات اور لطائف علم روح کے متعلق اس شرط سے لکھیں کہ کسی بات اور کسی دلیل کے بیان کرنے میں بیانات قرآنی سے باہر نہ جائیں یعنے وہی دلائل و براہین مخلوقیت ارواح پیش کریں جو قرآن شریف نے آپ پیش کئے ہیں اور وہی دقائق و معارف علم روح لکھیں جو قرآن شریف نے خود لکھے ہیں۔ علی ھذا القیاس ماسٹر صاحب بھی بمقابل ہمارے ایسا ہی کریں یعنی وہ بھی روحوں کی غیر مخلوقیت بدلائل عقلیہ ثابت کرنے اور علم روح کے بیان کرنے میں وید ہی کی شرتیوں کے پابند رہیں اور وہی دلائل وغیرہ تحریر میں لاویں جو وید نے پیش کئے ہیں اور ہم دونوں فریق صرف حوالہ آیت یا شرقی پر کفایت نہ کریں بلکہ اس آیت یا شرقی کو بتمامہ مع ترجمہ و پستہ ونشان وغیرہ تحریر بھی کر دیں۔ اس طور کے مباحثہ وموازنہ سے غالب اور مغلوب میں صاف فرق کھل جائے گا اور جوان دونوں میں سے حقیقت میں خدا کا کلام ہے وہ کامل طور پر ان باتوں میں عہدہ برا ہوگا اور اپنے حریف کو شکست فاش دے گا اور اس کی ذلت اور رسوائی ظاہر کرے گا لیکن ہم بطور پیشگوئی یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ ایسا مقابلہ وید سے ہونا ہرگز ممکن ہی نہیں کیونکہ وید اپنے بیانات میں سراسر غلطی پر ہے اور وہ بوجہ انسانی خیالات ہونے کے یہ طاقت اور قوت بھی نہیں رکھتا کہ خداوند علیم و حکیم کی پاک و کامل کلام کا مقابلہ کر سکے۔ ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ ہم نے علی التساوی یہ شرط پیش کی ہے یعنے اپنے نفس کے لئے اس طرز کے مقابلہ میں کوئی ایسا فائدہ مخصوص نہیں رکھا جس سے فریق ثانی منتفع نہ ہو سکتا