سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 145 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 145

روحانی خزائن جلد ۲ ۱۳۳ سرمه چشم آرید پیدا کر کے اجزائے عالم کو باہم انضباط بخشا ہے اور محض اپنی قدرت کاملہ سے اور خاص ۸۵ اپنے ہی ارادہ اور مشیت سے تمام چیزوں مادی و غیر مادی کو ایک پر حکمت سلسلہ انتظام میں خود اپنی حکیمانہ مصلحت سے منسلک کیا ہے تو یہی مان لینا جس کا نام دوسرے لفظوں میں قانون قدرت ہے آپ کے اصول تناسخ کی بیخ کنی کرتا ہے وجہ یہ کہ آپ کا مسئلہ تناسخ اس بنا پر کھڑا کیا ہے کہ یہ ترتیب عالم جو بالفعل موجود ہے پر میشر کے ارادہ اور قدرت سے نہیں اور نہ اس کی حکمت اور مصلحت سے بلکہ گنہگاروں کے گناہ نے یہ مختلف صورتوں کی چیزیں پیدا کر دی ہیں جس میں پر میشر کا ذرا دخل نہیں مثلاً گائے جو دودھ دیتی ہے۔ یا گھوڑا جو سواری کے کام آتا ہے یا گدھا جو بوجھ اٹھاتا ہے۔ یاز مین جس پر ہم آباد ہیں۔ یا چاند اور سورج جو دو چمکتے ہوئے چراغ اپنی مختلف قوتوں اور خاصیتوں سے انواع اقسام کے فوائد دنیا کو پہنچاتے ہیں یا یا گیہوں اور چنے اور چانول وغیرہ ماکولات جن کو ہم کھاتے ہیں شائد کسی نا واقف آریہ کو اس جگہ دھوکا لگے کہ آریہ سماج والے اس بات کے (۸۵ حاشیه قائل نہیں ہیں کہ روح بطور تاریخ چاند یا سورج یا زمین وغیرہ سے بھی تعلق پکڑ لیتی ہے بلکہ وہ ان چیزوں کو جڑیا ہے جان سمجھتے ہیں تو اس کے جواب میں ماننا چاہئے کہ اول تو آریوں کا ایسا خیال کرنا کہ سورج و چاند و زمین واگنی و وایو وغیره سیه سب بے روح چیزیں ہیں جن میں جان نہیں ہے سرا سر غلط اور وید کی تعلیم سے بھی منافی ہے کیونکہ وید کے صد با مقامات سے ثابت ہے کہ سورج چاند اور اگنی وغیرہ ارکان اولیہ عالم کے لئے ایک ایک روح ہے ان روحوں کے یونانی و مجوسی بھی قائل ہیں ایسا ہی دنیا کے تمام تناسخیه فرقے ان ارواح کو مانتے ہیں ۔ بلکہ ان کا بیان ہے کہ جب انسانی روح سورج و چاند دستاروں وغیرہ سے تعلق پکڑتی ہے تو پھر وہ دیوتا بن کر قابل پرستش ہو جاتی ہے اسی وجہ سے تو قدیم سے