سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 144 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 144

روحانی خزائن جلد ۲ ۱۳۲ سرمه چشم آریہ کسی نا معلوم زمانہ میں ایک لولی کو لوہے کی ٹانگیں دے دی تھیں اور بانجھ کو دو دھیلا کر دیا تھا اور ایک اندھے کو سوجا کھا بنا دیا تھا اور ایک شخص جس کا سرکٹ گیا تھا بجائے اس سر کے گھوڑے کا سر اس پر لگا دیا تھا اور سیا وارثی کو جس کے تین ٹکڑے ہو گئے تھے از سر نو زندہ کر دیا تھا وغیرہ وغیرہ مگر ہم نے الزامی جوابوں میں ان کہانیوں کو پیش نہیں کیا کیونکہ گوان بے اصل قصوں کو جن کا حوالہ کسی ایسے بے نشان زمانہ پر دیا گیا ہے جو وید کے وجود سے پہلے گزر چکا ہے تمام پرانوں والے تو مانتے ہیں مگر حال کے چند آریہ سماج والے ان مقامات وید میں بڑی جان کنی سے بے سروپا و پُر تکلف تاویلیں کرتے ہیں۔ تتمه آریوں کا اصول تناسخ قانونِ قدرت کے اصول سے منافی ہے اے حضرات آریہ صاحبان اگر تمام جہان قانون قدرت کا قائل ہو جائے پھر بھی آپ لوگوں کو قائل ہونے کی کوئی سبیل نہیں کیونکہ قانون قدرت کے ماننے سے سب تار و پود آپ کے مذہب کا ٹوٹ جاتا ہے۔ آپ لوگ تو تصرفات قدرتیہ جناب الہی کے قائل ہی نہیں اور نہ قائل ہو سکتے ہیں اور قانون قدرت کو ماننا تو آپ کا مذہب ہی نہیں اور نہ ہو سکتا ہے۔ وجہ یہ کہ آپ کا مسئلہ تناسخ تب قائم رہ سکتا ہے کہ جب خدائے تعالیٰ کو اس کے مختارانہ کاموں اور ارادی قدرتوں سے اور اختیاری تصرفات سے اور ذاتی طاقتوں اور ذاتی قوتوں سے ازل سے ابد تک معطل اور بیکا ر اور عاجز اور لا چار سمجھا جائے پس اس سے ظاہر ہے کہ آپ لوگوں کا اواگون خدائے تعالیٰ کے قانون قدرت کا ضد پڑا ہوا ہے اور ضد بھی ایسی ضد کہ ایک کے ماننے سے دوسرا قائم نہیں رہ سکتا کیونکہ اگر خدائے تعالیٰ کے قادرانہ تصرفات کو تسلیم کیا جائے اور یہ مان لیا جائے کہ اس نے تمام اجرام علوی اور اجسام سفلی کو اپنی قدرت ربوبیت سے