سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 132 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 132

روحانی خزائن جلد ۲ ۱۲۰ سرمه چشم آرید ۷۲) یعنی کفار نے تو چاند پھٹنے ک سحر پر حمل کیا اور تکذیب کی مگر یہ سحر نہیں ہے بلکہ خدائے تعالیٰ کے ان امور یعنی قوانین قدرتیہ میں سے ہے جو اپنے اپنے وقتوں میں قرار پکڑنے والے ہیں اور عقلمند انسان اس نشان قدرت سے کیوں تعجب کرے کیا اللہ تعالیٰ کے کارخانہ قدرت میں یہی ایک بات بالاتر از عقل ہے جو حکیموں اور فلسفیوں کی سمجھ میں نہیں آتی اور باقی تمام اسرار قدرت انہوں نے سمجھ لئے ہیں اور کیا یہ ایک ہی عقدہ لاینحل ہے اور باقی سب عقدوں کے حل کرنے سے فراغت ہو چکی ہے اور کیا اللہ تعالیٰ کے عجائب کا موں میں سے یہی ایک عجیب کام ہے اور کوئی نہیں بلکہ اگر غور کر کے دیکھو تو اس قسم کے ہزار ہا عجائب کام اللہ تعالیٰ کے دنیا میں پائے جاتے ہیں زمین پر سخت سخت زلازل آتے رہتے ہیں اور بسا اوقات کئی میل زمین تہ و بالا ہوگئی ہے مگر پھر بھی انتظام عالم میں فتور واقع نہیں ہوا حالانکہ جیسے چاند کو اس انتظام میں دخل ہے ویسا ہی زمین کو غرض یہ ملحدانہ شکوک انہیں لوگوں بقیه ہی نہیں کہ کوئی روح پیدا کر سکے ۔ اس کے جواب میں انہوں نے اپنے چیلوں کو حاشیه یہ پٹی پڑھائی کہ روح بے انت ہیں کبھی ختم نہیں ہوں گے ۔ پھر جب ہم نے اخبار وکیل ہند میں مشتہر کیا کہ کیا پر میشر بھی جانتا ہے یا نہیں کہ اس قدر روح ہیں تو یہ جواب ملا کہ روحوں کی تعداد کی پر میشر کو بھی خبر نہیں اس کی بے خبری سے ہی یہ سارا انتظام دنیا کا چلا جاتا ہے پھر جب لوگوں نے اس اعتقاد پر بہت ہنسی ٹھٹھا شروع کیا تب پنڈت صاحب تنگ اور لا چار آ کر دوسری طرف الئے اور فرمایا کہ ہاں روح تو بے انت نہیں ہیں مگر یہ بات سچ ہے کہ کسی کو اوتار ہو یا رشی ہو کوئی ہو ہمیشہ کی نجات نہیں ملے گی اور کیسا ہی کوئی اعلیٰ درجہ کا نیک اور عاشق الہی ہو جائے مگر تب بھی جونوں کی دائمی بلا سے اس کو مخلصی نہیں ہوگی پر میشر تو رحیم ہی تھا مگر وہ بے چارہ کیا کر سکے ہمیشہ کی نجات دینا اس کی قدرت سے باہر ہے کیونکہ وہ کسی روح کو پیدا نہیں کر سکتا۔ اس کی ساری بدنامیوں کی جڑھ یہی ہے غرض پنڈت