سُرمہ چشم آریہ — Page 131
روحانی خزائن جلد ۲ 119 سرمه چشم آریہ نہ آوے اسی کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ ) وَانْشَقَّ الْقَمَرُ ے نزدیک آ گئی وہ گھڑی اور پھٹ گیا چاند ۔ اس آیت کا یہ مطلب ہے کہ روز ازل سے حکیم مطلق نے ایک خاصہ مخفی چاند میں رکھا ہوا تھا کہ ایک ساعت مقررہ پر اس کا انشقاق ہوگا اور یہ ظاہر ہے کہ نجوم اور شمس اور قمر کے خواص کا ظہور ساعات مقررہ سے وابستہ ہے اور ساعات کو حدوث عجائبات سماوی وارضی میں بہت کچھ دخل ہے اور حقیقت میں قوانین قدرتیہ کا شیرازہ انہیں ساعات سے باندھا گیا ہے سو کیا عمدہ اور پر حکمت اور فلسفیانہ اشارہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ نے آیت مندرجہ بالا میں فرمایا کہ چاند کے پھٹنے کی جو ساعت مقرر اور مقدر تھی وہ نزدیک آ گئی اور چاند پھٹ گیا جیسا کہ اللہ تعالی اس آیت کے آگے بھی فرماتا ہے وَكَذَّبُوْا وَاتَّبَعُوا أَهْوَاءَهُمْ وَكُلُّ أَمْرٍ مُّسْتَقِرُّ بقیه خیال ہے کہ وہ براہمن پشتک ہے اور تین ویدوں میں اس کا کہیں ذکر نہیں۔ خیر یہ اے کا حاشیه جھگڑا ہمارے اس وقت کے بحث سے متعلق نہیں صرف یہ ظاہر کرنا تھا کہ پنڈت دیا نند قائم الرائے آدمی نہیں تھا اور فطرت سے ان کو ایک موٹی عقل ملی تھی جس کی وجہ سے وہ دوسروں کی باتوں کو تو کیا سمجھتے اپنی رائے کے آخری نتائج سے بھی اکثر بے خبر رہتے تھے یہی وجہ تھی کہ ان کے خیالات ایک ہی مرکز پر قائم نہیں رہ سکتے تھے ۔ اوائل میں ان کی یہ رائے تھی کہ تناسخ باطل ہے چنانچہ یہ رائے ان کی ایک مرتبہ وکیل ہند امرتسر میں بھی چھپی تھی پھر اسی اخبار میں لکھا تھا کہ اب پنڈت صاحب فرماتے ہیں کہ اب میں نے عقیدہ تناسخ کو اختیار کر لیا ہے گو پہلے نہیں تھا پھر چاند پور کے مباحثہ پر جو ان کی طرف سے ایک رسالہ نکلا تھا اس میں انہوں نے مکتی جاودانی کا صاف اقرار کیا تھا چنانچہ اب تک رسالہ موجود ہے اور جب سوال کیا گیا کہ اگر مکتی جاودانی ہے تو پھر روح کسی نہ کسی دن مکتی پا کر ختم ہو جائیں گے کیونکہ پر میشر میں تو یہ قدرت القمر : ٢ القمر : ۴