سُرمہ چشم آریہ — Page 103
روحانی خزائن جلد ۲ ۹۱ سرمه چشم آرید غیر محدود کے آثار اپنے اپنے وقتوں میں ظہور میں آتے ہیں نہ کوئی امران کا غیر اور وہ صفات ۴۳) ہر یک مخلوق ارضی و سماوی پر مؤثر ہورہی ہیں اور انہیں آثار الصفات کا نام سنت اللہ یا قانون قدرت ہے مگر چونکہ خدائے تعالیٰ معہ اپنی صفات کا ملہ کے غیر محدود اور غیر متناہی ہے اس لئے ہماری بڑی نادانی ہوگی اگر ہم یہ دعوی کریں کہ اس کے آثار الصفات یعنی قوانین قدرت باندازہ ہمارے تجربہ یا فہم یا مشاہدہ کے ہیں اس سے بڑھ کر نہیں۔ آج کل کے فلسفی الطبع لوگوں کی یہ بڑی بھاری غلطی ہے کہ اول وہ قانون قدرت کو ایسا سمجھ بیٹھے ہیں جس کی من کل الوجوه حد بست ہو چکی ہے۔ اور پھر بعد اس کے جو امر نیا پیش آئے اس کو ہرگز نہیں مانتے اور ظاہر ہے کہ اس خیال کی بنا راستی پر نہیں ہے اور اگر یہی سچ ہوتا تو پھر کسی نئی بات کے ماننے کے لئے کوئی سبیل باقی نہ رہتا اور امور جدیدہ کا دریافت کرنا غیر ممکن ہو جاتا کیونکہ اس صورت میں ہر یک نیا فعل بصورت نقض قوانین طبعی نظر آئے گا اور اس کے ترک کرنے سے ناحق ایک جدید صداقت کو ترک کرنا پڑے گا یہی وجہ ہے کہ یہ منحوس اصول آج تک دکھانے کے ہی دانت رہے ہیں نہ کھانے کے اور امور جدیدہ کا قوی ظہور اس قاعدہ کی تارو پود کو ہمیشہ توڑتا رہا ہے جب کسی زمانہ میں کوئی جدید خاصہ متعلق علم طبعی یا ہیئت وغیرہ علوم کے متعلق ظہور پکڑتا رہا ہے تو ایک مرتبہ فلسفہ کے شیش محل پر ایک سخت بھونچال کا موجب ہوا ہے جس سے متکبر فلسفیوں کا شور شرارہ کچھ عرصہ کے واسطے فرو ہوتا رہا ہے یہی وجہ ہے کہ ان لوگوں کے خیالات ہمیشہ پلٹے کھاتے رہے ہیں اور کبھی ایک ہی صورت یا ایک ہی نقشہ پر ہرگز قائم نہیں رہے اگر کوئی صفحات تاریخ زمانہ میں واقعات سوانح عمری حکماء پر غور کرے تو اس کو معلوم ہو جائے گا کہ ان کے خیالات کی ٹرین کتنی مختلف سڑکوں یا یہ کہ کس قدر متناقض چالوں پر چلی ہے اور کیسے داغ خجالت اور ندامت کے ساتھ ایک رائے کو دوسری رائے سے تبدیل کرتے آئے ہیں اور کیونکر انہوں نے ایک مدت دراز تک کسی بات کا انکار کر کے اور قانون قدرت سے اس کو باہر سمجھ کر آخر نہایت متند مانہ حالت میں اسی بات کو قبول کر لیا ہے سو اس تبدیل آراء کا کیا سبب تھا یہی تو تھا کہ جو کچھ انہوں نے سمجھ رکھا تھا وہ ایک ظنی بات تھی جس کی