سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 99 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 99

روحانی خزائن جلد ۲ ۸۷ سرمه چشم آرید جل شانہ ہو جاتا ہے اور بعد اس کے جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں مرتبہ ایقان ہے اور پھر اس کے بعد ۳۹ ) مرتبہ عرفان کا ہے یعنی جبکہ بندہ ایسی باتوں کو مان لیتا ہے جن کو اس کی عقل امکان یا جواز یا وجوب کی صورت میں قبول تو کر لیتی ہے مگر انکشاف کلی کے طور پر ان پر احاطہ نہیں کر سکتے تو خدائے تعالیٰ کی نظر میں وہ شخص صادق ٹھہر جاتا ہے اور حضرت خداوند کریم عزاسمہ بہ برکت اس ایمان کے عرفان کا مرتبہ اس کو عطا کر دیتا ہے یعنی اپنی طرف سے علم و معرفت وسکیت اس پر نازل کرتا ہے اور کشفی اور الہامی نوروں سے وہ بقیہ ظلمت بھی اٹھا دیتا ہے جس کے اٹھانے سے عقل دود آمیز عاجز رہ گئی تھی اسی جہت سے خدائے تعالیٰ نے جیسے انسان کی فطرت میں مبادی امور کے کسی قدر سمجھنے بقیہ ظاہر کی کہ ہم کوئی ثبوت قابل اطمینان اس بات پر نہیں دیکھتے کہ بعد مرنے کے روح (۳۹) حاشیه باقی رہ جاتی ہے نہ کوئی روح نظر آتی ہے اور نہ واپس آ کر کچھ اپنا قصہ سناتی ہے بلکہ سب روحیں مفارقت بدن کے بعد خدا اور فرشتوں کی طرح بے اثر و بے نشان ہیں سو ان کا بھی وجود ماننا خلاف دلیل و برہان ہے ۔ ان سب فیصلوں کے بعد ان کی نظر عمیق نے تکالیف شرعیہ کی مشقت اور حلال حرام کا فرق اصول فلسفہ کا سخت مخالف سمجھا ۔اس لئے انہوں نے صاف صاف اپنی رائے ظاہر کر دی کہ ماں اور بہن اور جورو میں فرق کرنا یا اور چیزوں میں سے بلا ثبوت ضرر طبی بعض چیزوں کو حرام سمجھ لینا یہ سب بناوٹی باتیں ہیں جن پر کوئی فلسفی دلیل قائم نہیں ہو سکتی ۔ اسی طرح انہوں نے یہ بھی بیان کیا کہ نگا ر ہنے میں کوئی شناعت عقلی ثابت نہیں ہوتی بلکہ اس میں طبی قواعد کے رو سے فوائد ہیں۔ اسی طرح ان فلاسفروں کے اور بھی مسائل ہیں ۔ اور خلاصہ ان کے مذہب کا یہی ہے کہ وہ بجز دلائل قطعیہ عقلیہ کے کسی چیز کو نہیں مانتے اور ان کی فلسفیانہ نگاہ میں کو کیسی کوئی بدعملی ہو جب تک براہین قطعیہ فلسفیہ سے اس کا بد ہونا ثابت نہ ہولے بعنے جب تک اس میں کوئی طبی ضرر یا دنیوی بد انتظامی متصور