ستارہ قیصرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 121 of 769

ستارہ قیصرہ — Page 121

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۱۲۱ ستاره قیصره اسلام میں تلوار کا حکم ہوا کیونکہ وہ تلوار دین کو پھیلانے کے لئے نہیں کھینچی گئی تھی بلکہ دشمنوں کے حملوں سے اپنے آپ کو بچانے کے لئے اور یا امن قائم کرنے کے لئے کھینچی گئی تھی مگر دین کے لئے جبر کرنا کبھی مقصد نہ تھا۔ افسوس کہ یہ عیب غلط کار مسلمانوں میں اب تک موجود ہے جس کی اصلاح کے لئے میں نے پچاس ہزار سے کچھ زیادہ اپنے رسالے اور مبسوط کتابیں اور اشتہارات اس ملک اور غیر ملکوں میں شائع کئے ہیں اور امید رکھتا ہوں کہ جلد تر ایک زمانہ آنے والا ہے کہ اس عیب سے مسلمانوں کا دامن پاک ہو جائے گا۔ دوسرا عیب ہماری قوم مسلمانوں میں یہ بھی ہے کہ وہ ایک ایسے خونی مسیح اور خونی مہدی کے منتظر ہیں جو ان کے زعم میں دنیا کو خون سے بھر دے گا۔ حالانکہ یہ خیال سرا سر غلط ہے۔ ہماری معتبر کتابوں میں لکھا ہے کہ مسیح موعود کوئی لڑائی نہیں کرے گا اور نہ تلوار اُٹھائے گا بلکہ وہ تمام باتوں میں حضرت عیسی علیہ السلام کے خو اور خلق پر ہوگا اور ان کے رنگ سے ایسا رنگین ہوگا کہ گویا ہو بہو وہی ہوگا۔ یہ دو غلطیاں حال کے مسلمانوں میں ہیں جن کی وجہ سے اکثر اُن کے دوسری قوموں سے بغض رکھتے ہیں مگر مجھے خدا نے اس لئے بھیجا ہے کہ ان غلطیوں کو دور (9) کر دوں اور قاضی یا حکم کا لفظ جو مجھے عطا کیا گیا ہے وہ اسی فیصلہ کے لئے ہے۔ اور ان کے مقابل پر ایک غلطی عیسائیوں میں بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ مسیح جیسے مقدس اور بزرگوار کی نسبت جس کو انجیل شریف میں نور کہا گیا ہے نعوذ باللہ لعنت کا لفظ اطلاق کرتے ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ لعن اور لعنت ایک لفظ عبرانی اور عربی میں مشترک ہے جس کے یہ معنی ہیں کہ ملعون انسان کا دل خدا سے بکلی برگشتہ اور دور اور مہجور ہو کر ایسا گندہ اور ناپاک ہو جائے جس طرح جذام سے جسم گندہ اور خراب ہو جاتا ہے اور عرب اور عبرانی کے اہل زبان اس